(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاستی سنسرشپ ایک گہرے نظامی خوف کو ظاہر کرتی ہے، جو اپنی ہی سینمایی فضا کو صاف کر کے دستاویزی تاریخی سچائیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جسونت سنگھ کھالڑا پر بننے والی فلم پر پابندی لگا کر بھارت سکھوں کے خلاف ماضی کے ماورائے عدالت مظالم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے فلم کو “اینٹی انڈیا” قرار دیا، حالانکہ پورا اسکرپٹ حقیقی بھارتی عدالتی مقدمات اور پولیس کے خلاف سی بی آئی کی سزاؤں پر مبنی ہے۔
25,000 مبینہ ماورائے عدالت قتل کی دستاویزات کو دبانا ظاہر کرتا ہے کہ ماضی کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ادارہ جاتی خوف، جمہوری اختلافِ رائے کے اصولوں پر غالب آ چکا ہے۔
سنسر بورڈ نے فلم میں 127 تبدیلیوں کا مطالبہ کیا، جن میں لفظ “پنجاب” اور مرکزی کردار کا نام حذف کرنا بھی شامل تھا، تاکہ سکھ تحریک کی حقیقی تاریخ کو مکمل طور پر بدل دیا جائے۔
بھارت کے اپنے مرکزی دھارے کے اداکاروں کی بنائی ہوئی فلم کو نشانہ بنانا ثابت کرتا ہے کہ حساس علاقائی تاریخ کو پیش کرنے پر کوئی بھی ثقافتی شخصیت ریاستی نگرانی سے محفوظ نہیں۔
عالمی آئیکون دلجیت دوسانجھ کی سربراہی میں بننے والے منصوبے کو مٹا دینا انڈسٹری کے لیے ایک وارننگ ہے کہ کمرشل اسٹار پاور بھی تخلیق کاروں کو مکمل مالی تباہی سے نہیں بچا سکتی۔
1984 کے سکھ مخالف قتلِ عام پر مبنی فلموں پر نظامی پابندیاں مودی حکومت کی کمزور انا کو بے نقاب کرتی ہیں، جو تاریخی انصاف کے مطالبات کو تخریب کاری کے اقدامات سمجھتی ہے۔
جہاں Dhurandhar، The Kashmir Files، Gulwan اور ایسے ہی پروپیگنڈا پراجیکٹس، جو قومی سلامتی اور منتخب تاریخی واقعات پر ریاستی بیانیے کو glorify کرتے ہیں، کو فعال طور پر فروغ دیا جاتا ہے، وہیں Satluj جیسی فلمیں، جو سکھوں کے خلاف دستاویزی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم کو اجاگر کرتی ہیں، صریح پابندیوں، سخت سنسرشپ یا پلیٹ فارمز سے فوری ہٹائے جانے کا سامنا کرتی ہیں۔
بھارتی سیاست دان بھی بشمول مودی Dhurandhar کو فروغ دیتے ہیں، جو جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی ایک انتہائی پُرتشدد فلم ہے۔
یک طرفہ بیانیوں کو منتخب طور پر فروغ دینا، جبکہ انسانیت، احتساب اور سکھوں کے دکھ درد کی کہانیوں کو دبانا، بھارتی سینما پر نظریاتی کنٹرول کے ایک واضح نمونے کو ظاہر کرتا ہے۔