منی پور میں نسلی تصادم شدت اختیار کر گیا، کرفیو نافذ، انٹرنیٹ بھی معطل

منی پور میں نسلی تصادم شدت اختیار کر گیا، کرفیو نافذ، انٹرنیٹ بھی معطل
کیپشن: منی پور میں نسلی تصادم شدت اختیار کر گیا، کرفیو نافذ، انٹرنیٹ بھی معطل

ویب ڈیسک:بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری نسلی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث ریاستی حکومت نے امپھل سمیت 5 اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز بھی 5 روز کیلئےمعطل کر دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جن میں مشتعل افراد نے ایک بس کو آگ لگا دی، جبکہ سڑکوں پر ٹائر جلا کر راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ کشیدگی کے پیش نظر انتظامیہ نے امن و امان کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

ریاستی پولیس نے ’ارمبائی ٹینگول‘ نامی تنظیم کے پانچ ارکان کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے بعد مذکورہ گروپ نے وادی کے اضلاع میں 10 روزہ شٹر ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔

منی پور میں مییتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی کشیدگی گزشتہ دو برسوں سے جاری ہے، جس میں اب تک سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 2023 کے پُرتشدد واقعات کے بعد کم از کم 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے متعدد اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے۔

زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمتوں میں حصے کے معاملات نے دونوں برادریوں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی حکومت پر حالات سے مؤثر طور پر نہ نمٹنے اور بعض معاملات میں جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار منی پور کی صورتحال کو قابو میں لانے میں ناکام رہی ہے، اور موجودہ صورتحال خطے کے لیے خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے۔

Watch Live Public News