سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ،بجٹ 2025-26کل پیش کیا جائے گا

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ،بجٹ 2025-26کل پیش کیا جائے گا
کیپشن: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ،بجٹ 2025-26کل پیش کیا جائے گا

ویب ڈیسک:آئندہ مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، بجٹ کا مجموعی حجم 17,500 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ رواں مالی سال میں یہ حجم 18,870 ارب روپے تھا۔

سرکاری ملازمین و پنشنرز کے لیے خوشخبری

ذرائع کے مطابق  سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں میں 5 سے 7.5 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کے لیے 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس کی تجویز دی گئی ہے،مسلح افواج کی تنخواہوں و پنشن میں بھی اضافے کی تجویزدی گئی ہے جبکہ رسک الاؤنس کو پنشن ایبل بنانے کی تجویزدی گئی اور ڈیفائنڈ کنٹری بیوٹری پنشن سسٹم کا اطلاق بھی زیر غور ہے۔

اہم مالیاتی اہداف و اعداد و شمار

ذرائع کا کہناہےکہ بجلی سمیت دیگر شعبوں کو سبسڈی کی رقم بھی 14سو ارب روپے کے لگ بھگ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع  کے مطابق  ایف بی آر کی ٹیکس آمدن 14ہزار 142 ارب روپے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے،نان ٹیکس امدن کا تخمینہ 4851 ارب روپے سے کم ہوکر 3500ارب کے لگ بھگ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔سود کی ادائیگیوں کا بوجھ  9775 ارب روپے سے کم کے کر8110 روپے کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کاکہناہے کہ ایکسپورٹ 35ارب ڈالر ترسیلات زر 39ارب ڈالر حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اقتصادی ترقی کا ہدف 4.2فیصد مقرر کیے جانے کا امکان ہے،آئندہ مالی سال کیلئے مہنگائی کا ہدف 7 فیصد کے لگ بھگ رہنے کا تخمینہ ہے۔

سبسڈی، کسٹمز اور ریونیو اقدامات

ذرائع کا کہناہے کہ  درآمدی مرحلے پر ٹیرف میں رد و بدل کی تجویز سے 150 سے 200 ارب روپے کی کمی متوقع ہے۔گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 12.5فیصد سے بڑھا کر 18فیصد کرنے کی تجویز ہے، فری لانسرز کی بیرون ملک آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز ہے، سیگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے،سپلائی چین پر 4فیصد فردر سیلز ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔چھوٹے گھروں کی پہلی بار تعمیر پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ سولر پینل پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی گئی ہے،تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر کام جاری ہے۔

مجموعی بجٹ 13.52 ارب روپے، کوئی نیا منصوبہ شامل نہیں

وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے ترقیاتی بجٹ میں 10.40 ارب روپے کی غیر معمولی کمی کرتے ہوئے بجٹ کو 13.52 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے۔نئے بجٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا،نئے مالی سال کے بجٹ میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے 12منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں۔

اسلام آباد میں ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کیلئے4.91ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،کراچی میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کیلئے 4ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے منصوبے کیلئے 1.97ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئی ٹی سٹارٹ آپس اور سپیشل آئی ٹی ٹریننگ کیلئے 50کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،آئی ٹی انڈسٹری کی ری ویمپنگ کیلئے 50کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آزاد کشمیر اور جی بی میں موبائل سروس بہتر بنانے کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایک مریض ایک آئی ڈی منصوبے کیلئے 9.71کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ڈیجیٹل پاکستان کی سکیورٹی کیلئے25کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پنکھوں کی بلاسود فراہمی

حکومت کی جانب سے بلاسود آسان اقساط پر بجلی کے پنکھوں کی فراہمی کی اسکیم شروع کیے جانے کا امکان ہے، جو بجلی کی بچت اور عام آدمی کی سہولت کے لیے اہم اقدام ہو گا۔

صنعتی و تجارتی مراعات

ذرائع کا کہناہے کہ بجٹ میں صنعتی ترقی کے لیے 7 ہزار سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی میں کمی کا اعلان بھی متوقع  ہے،حکومت آئندہ بجٹ میں 4294 ٹیرف لائنز پر 2 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی  ہے۔لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کی بیٹری اور چارجرز کی مقامی تیاری کیلئے مراعات دینے کی بھی تجویز  دی گئی ہے۔

گرین ٹیک اور الیکٹرک گاڑیاں

ذرائع کا کہنا  ہےکہ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر 5 سال لیوی لگانے کا پلان ہے،لیوی لگانے سے سالانہ 24 ارب اور 5 سال میں 122 ارب روپے کا ریونیو متوقع  ہے۔

ٹیکس اصلاحات اور نگرانی

ذرائع کا کہناہے کہ پوائنٹ آف سیلز میں رجسٹرڈ ریٹیلرز کی تعداد 39 ہزار ہے، آئندہ بجٹ میں پوائنٹ آف سیلز میں ریٹیلرز کی تعداد بڑھا کر 70 لاکھ کرنے کا ہدف  ہے،ٹیکس چوری میں ملوث ریٹیلرز پر جرمانہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس چوری میں ملوث 20 ریٹیلرز کو سیل کیا جا رہا ہے،ٹیکس چوری میں ملوث ریٹیلرز کی نشان دہی کرنے پر 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک انعام ملے گا۔ بجٹ میں ریٹیلرز پر مانیٹرنگ کیمرہ اور نگرانی کے لیےملازمین کی تعیناتی بھی کی جائے گی۔

 آئی ایم ایف سے ہم آہنگی
آئی ایم ایف کی مشاورت سے اہم معاشی اہداف کا تعین مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت تمام پالیسی اقدامات مربوط انداز میں نافذ کیے جائیں گے۔

 بڑی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس میں نرمی

ذرائع کا کہناہے کہ سالانہ 15 کروڑ منافع کمانے والی کمپنیاں بدستور سپر ٹیکس سےمستثنی رہیں گی،سالانہ 20 کروڑ تک منافع کمانے والی کمپنیوں کا سپر ٹیکس 1 فیصد سے کم ہو کر 0.5  کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔25 کروڑ تک کا منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 2 کے بجائے 1.5 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 30 کروڑ تک منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس بدستور 3 فیصد رہنے کا امکان ہے،سالانہ 30 کروڑ سے زائد منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپرٹیکس بدستور 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں فی الحال کمی نہ ہونے کا امکان  ہے۔

 گاڑیوں اور درآمدی اشیاء پر ٹیکس اصلاحات

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 850 سی سی کی گاڑی پر سیلز ٹیکس میں 5.5 فیصد اضافے کا امکان ہے،3500 سے زائد امپورٹڈ اشیاء اور خام مال پر ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز ہے،مقامی صنعت کیلئے امپورٹڈ خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا امکان ہے،امپورٹڈ سامان پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں 2 سے 5 فیصد تک کمی کاامکان ہے جبکہ مقامی صنعت کیلئے امپورٹڈ خام مال پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے یا کمی کا فیصلہ ہوگا۔

 زرعی شعبے کیلئے ترقیاتی بجٹ اور منصوبے

آئندہ مالی سال میں وزارت فوڈ سیکورٹی کیلئے 2 ارب 2 کروڑ روپے کا بجٹ مختص  کرنے کی تجویز دی گئی ہے،تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کیلئے 50 کروڑ کا خرچ کئے جائینگے،بارانی علاقوں میں کمانڈ ایریاز کی توسیع کیلئے 48 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بلوچستان میں فیڈ سرٹیفیکیشن کیلئے تین لیبارٹریاں قائم کرنے کیلئے 3 کروڑ مختص  کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے کے قومی پروگرام کیلئے 10 کروڑ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،مویشیوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے منصوبے کیلئے 36 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،قومی زرعی پیداوار میں اضافے کے منصوبے کی فزیلبٹی کیلئے 20 کروڑ مختص  کرنے کی تجویز دی گئی ہے،پاکستان ماڈل ایگریکلچر ریسرچر سینٹر منصوبہ کی فزیلبٹی کیلئے 10 کروڑ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تصدیق شدہ لو کے بیج کی تیاری کیلئے پاک کوریا مشترکہ منصوبہ پر ساڑھے چار کروڑ خرچ ہونگے۔

Watch Live Public News