ویب ڈیسک: پاکستان کے عظیم مفکر، شاعرِ مشرق اور مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کا خواب دیکھنے والے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 148 واں یومِ پیدائش آج بھرپور عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
محکوم اقوام کو آزادی کی جدوجہد کی راہ دکھانے والے، اور مسلمانوں میں بیداری کی روح پھونکنے والے علامہ اقبال کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی ایک پُروقار تقریب منعقد کی جائے گی۔
یومِ اقبال کے حوالے سے پورے ملک میں تقریبات اور محافلِ ذکر کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں علمی و ثقافتی پروگرامز، محافلِ نعت اور سیمینارز شامل ہوں گے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 نومبر کو پاکستان بھر میں شاعرِ مشرق کے یومِ پیدائش کو "یومِ اقبال" کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
علامہ محمد اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزاد ریاست کا خواب دیکھا اور ان کے الفاظ میں ایسی قوت تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے اور آزادی کے راستے پر قدم بڑھانے کی ترغیب دیتے تھے۔
انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی، خود مختاری اور فکری بیداری کی لہر پیدا کی۔ اقبال نے جداگانہ قومیت کے تصور کو اجاگر کیا اور مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اُبھارا۔
علامہ اقبال کے افکار نے مسلمانوں کے دلوں میں اُمید کا چراغ روشن کیا، جس نے انہیں اپنی تقدیر کو بدلنے کی ہمت دی۔ ان کی شاعری اور فلسفہ نے نہ صرف ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا تصور دیا بلکہ مسلمانوں کو ایک نئی تہذیب اور معاشرت کی بنیاد رکھنے کی ترغیب دی۔
مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق اور فلسفی علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اور 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پا گئے۔ ان کی زندگی اور افکار آج بھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں، جو ہمیں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد اور آزادی کی اہمیت کا درس دیتے ہیں۔