کھانسی کے شربت سے بچوں کی اموات کی وجہ کیا ہے؟

کھانسی کے شربت سے بچوں کی اموات کی وجہ کیا ہے؟
کیپشن: کھانسی کے شربت سے بچوں کی اموات کی وجہ کیا ہے؟

ویب ڈیسک: بھارت میں زہریلا کھانسی کا شربت پینے سے کم از کم 24 بچوں کی موت نے ایک بار پھر ترقی پذیر ممالک میں دواؤں کی حفاظت اور معیار پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ المیہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اگست سے ستمبر کے دوران پیش آیا، جہاں متاثرہ بچوں نے مقامی طور پر تیار شدہ شربت پیا تھا جس میں خطرناک کیمیکل شامل تھا۔

متاثرہ بچوں میں بخار، قے، پیشاب کی بندش اور گردوں کے انفیکشن جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ شربت میں ڈائیتھائلین گلائکول (Diethylene Glycol) موجود تھا، جو انسانی جسم کے لیے زہریلا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیمیکل عام طور پر اینٹی فریز یا صنعتی سالوینٹس میں استعمال ہوتا ہے، اور بچوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دواؤں میں غلط طور پر پروپائلین گلائکول، گلیسرین یا سوربیٹول کی جگہ استعمال ہو جاتا ہے۔ زہریلے اثرات میں پیٹ درد، قے، اسہال، گردوں کی ناکامی، ذہنی انتشار اور موت شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں پایا جانے والا ایک شربت میں 48 فیصد سے زیادہ ڈائیتھائلین گلائکول موجود تھا، جو عالمی معیار سے 500 گنا زیادہ ہے۔

حکومت اور عالمی ردعمل
بھارتی حکومت نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی اور نزلہ زکام کی دوائیں نہ دی جائیں۔ وزارت صحت نے 19 فیکٹریوں میں چھاپے مار کر معیار اور حفاظتی نظام کا جائزہ لیا۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے میڈیکل الرٹ جاری کیا اور تمام ممالک سے کہا کہ مارکیٹ میں موجود ادویات کی سخت نگرانی کی جائے۔

ذمہ داری کس کی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس سانحے کی ذمہ داری ادویہ ساز کمپنیوں اور حکومتی ریگولیٹرز دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ پروفیسر ونسٹن مورگن کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان کو اپنی دواؤں کا معیار یقینی بنانا چاہیے، اور حکومت کو قوانین پر عملدرآمد کرانا چاہیے۔

دنیش ٹھاکر کے مطابق بھارت جیسے ممالک میں جہاں چھوٹی ادویہ ساز کمپنیاں بڑی تعداد میں کام کر رہی ہیں، وہاں کوالٹی کنٹرول کا سخت نظام نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات بار بار پیش آتے ہیں۔

یہ مسئلہ نیا نہیں
ایسے سانحات کا سلسلہ پرانا ہے۔ 1937 میں امریکہ میں بھی 100 سے زائد افراد آلودہ دوا پینے سے ہلاک ہوئے تھے، اور بھارت میں 1972 سے اب تک نو مرتبہ ایسے واقعات میں 300 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

کیا بچوں کو کھانسی کا شربت دینا محفوظ ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے کھانسی اور زکام کے شربت کی افادیت ثابت نہیں ہوئی، بلکہ بعض اجزاء نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ شربت صرف علامات کو وقتی طور پر کم کرتے ہیں، بیماری کا علاج نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں دوا سازی کے نظام میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک دواؤں کی تیاری، جانچ اور فروخت کے تمام مراحل پر سخت نگرانی نہیں ہوگی، ایسے المیے بار بار ہوتے رہیں گے اور قیمت معصوم بچوں کی زندگیوں کے طور پر ادا کی جاتی رہے گی۔

Watch Live Public News