ویب ڈیسک: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین اسٹاف لیول معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے اپنے تازہ اعلامیے میں تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے دوران غیر معمولی پیش رفت حاصل ہوئی ہے جو آنے والے ہفتوں میں معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے توسیعی فنڈ فیسیلیٹی (EFF) کے دوسرے جائزے اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی (RSF) کے پہلے جائزے کے لیے چوبیس ستمبر سے آٹھ اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران پاکستانی حکام کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی جس میں اقتصادی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق رائے ہوا جن میں مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ سیلاب متاثرین کی بحالی، مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط مالیاتی پالیسی، اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ فنڈ نے پاکستان کے اس عزم کو سراہا کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے وسائل مہیا کرتا رہے گا۔
مزید برآں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کے دائرہ کار میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانا بھی مذاکرات کا حصہ رہا۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ بقیہ پالیسی امور پر تکنیکی سطح کے بعد اب پالیسی سطح پر بات چیت جاری رہے گی تاکہ اسٹاف لیول معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کو فنڈ کے اگلے مرحلے کی ادائیگی کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی، جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔