ویب ڈیسک:معروف وائلڈ لائف ماہر وقار ذکریا نے دیوسائی میں گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ کے حملے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ پاکستانی براؤن ریچھ امریکی الاسکن ریچھ جتنا بڑا نہیں ہوتا لیکن اس کے تقریباً 2 انچ لمبے ناخن نہایت تیز دھار اور گوشت چیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہر وقار ذکریا کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ریچھ کو لگا ہوگا کہ قریب میں خوراک ہے اور گلوکارہ کی چیخ و پکار نے اس کے جارحانہ رویے کو بڑھا دیا ہو بہرحال یہ ایک نایاب اور انفرادی واقعہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شفق حسین کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ضرور ہے لیکن یہ ہونا ہی تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک دیوسائی جیسے حساس علاقوں میں ’ گلیمپنگ‘ (پرآسائش کیمپنگ) جاری رہے گی اور انسان خوراک جنگلی جانوروں کے قریب چھوڑتے رہیں گے ایسے واقعات کا سلسلہ بڑھتا رہے گا۔
وقار ذکریا کا کہنا ہے کہ ایسے موقعے پر چیخنے کے بجائے ساکت رہنا بہتر ہوتا ہے اگرچہ یہ ایسی صورتحال میں پھنسے کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا غیر حقیقی ہے۔
وقار کے مطابق سوشل میڈیا، سیلفیوں اور انسانی خوراک کی دستیابی جیسے عوامل کی وجہ سے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کے قریب آنے لگے ہیں، جنگلی جانور اس وجہ سے حملہ کرتے ہیں کہ انسان اکثر بغیر کسی وجہ کے ان کو مار دیتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انسانوں نے نہ صرف جنگلی علاقوں پر قبضہ کیا ہے بلکہ ان کے قدرتی ماحول کو بھی بگاڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی، مویشیوں کی غیر محتاط چراگاہوں میں موجودگی اور بے قابو سیاحت سب اس بگاڑ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو جنگلی جانوروں کو کبھی بھی خوراک نہیں دی جانی چاہیے اور یہ سب سے اہم اصول ہے جس کو ذہن میں ہمیشہ رکھنا چاہیے۔