ٹرمپ کے ٹیرف میں وقتی نرمی، امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

ٹرمپ کے ٹیرف میں وقتی نرمی، امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی
کیپشن: ٹرمپ کے ٹیرف میں وقتی نرمی، امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ درآمدی محصولات کو وقتی طور پر معطل کرنے کے اعلان کے بعد بدھ کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست بہتری دیکھنے میں آئی۔ صدر کے اس اعلان نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو وقتی طور پر کم کیا اور مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا۔

دن کے آغاز میں تجارتی کشیدگی اور اقتصادی سست روی کے خطرات کے باعث مارکیٹ دباؤ کا شکار تھی، تاہم صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغام نے صورتحال کو تبدیل کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ متعدد ممالک نے امریکی اقدامات پر ردعمل نہیں دیا، اس لیے انہوں نے 90 دن کے لیے محصولات میں نرمی اور کچھ اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کی ہدایت دی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

اس اعلان کے اثرات فوری طور پر اسٹاک مارکیٹ میں دیکھے گئے:

ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 7.8 فیصد اضافہ
ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 2476 پوائنٹس یعنی 6.6 فیصد اوپر
نیس ڈیک کمپوزٹ میں 9 فیصد کا نمایاں اضافہ
دوسری طرف، چین سے درآمدات پر نئے امریکی محصولات پہلے ہی لاگو ہو چکے تھے جن کی شرح 104 فیصد تک تھی۔ جواب میں، چین نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی مصنوعات پر جمعرات سے 84 فیصد تک ٹیرف بڑھا دے گا۔ بیجنگ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مزید سخت اقدامات کیے تو چین بھی اپنا ردعمل ظاہر کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جہاں دیگر ممالک کے لیے محصولات میں نرمی دکھائی ہے، وہیں چین کے لیے ٹیرف کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 125 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان جاری یہ تناؤ عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ تاہم امریکی بانڈ مارکیٹ میں کامیاب نیلامی نے بدھ کے روز کچھ حد تک سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا، اگرچہ ٹریژری ییلڈز میں اضافے سے مارکیٹ پر دباؤ بھی رہا۔

بین الاقوامی سطح پر اسٹاک مارکیٹس کی صورتحال ملی جلی رہی:

لندن: 2.9 فیصد کمی
ٹوکیو: 3.9 فیصد کمی
پیرس: 3.3 فیصد کمی
جبکہ چین میں:
ہانگ کانگ: 0.7 فیصد اضافہ
شنگھائی: 1.3 فیصد اضافہ

Watch Live Public News