ویب ڈیسک: امریکا اور چین کے درمیان تجارتی محصولات پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ نئی پیش رفت میں چین نے امریکا کی مزید 18 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر کرنسی میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا ہے، جس پر چین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکی ٹیرف پالیسی کو "غنڈہ گردی" قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ" چین کو ترقی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اپنے قانونی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن مؤثر اقدام کرتے رہیں گے۔"
چینی ردعمل: مزید امریکی کمپنیاں پابندی کی زد میں
چین کی جانب سے اٹھایا گیا یہ تازہ قدم امریکا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکا کی 18 مزید کمپنیوں کو چینی مارکیٹ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
عالمی ردعمل بھی سامنے آ گیا
تجارتی کشیدگی کے اس ماحول میں یورپی یونین نے بھی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کرتے ہوئے 25 فیصد جوابی محصولات عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ادھر روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "نئے امریکی ٹیرف عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا عالمی تجارتی قوانین کی پاسداری کے لیے سنجیدہ نہیں۔"
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکا کی جانب سے چین پر عائد کیے گئے ٹیرف کو 125 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، اور چین نے جوابی کارروائی کے طور پر امریکی مصنوعات پر 84 فیصد تک محصولات بڑھا دیے ہیں۔
عالمی تجارتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازعہ یوں ہی بڑھتا رہا تو امریکا اور چین کی باہمی تجارت میں 80 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، اور عالمی معیشت کو 7 فیصد تک طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔