امریکا اور روس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

امریکا اور روس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

(ویب ڈیسک) انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے امریکا اور روس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

روس نے جمعرات کے روز ایک دوہری شہریت والے شہری کو آزاد کر دیا جو یوکرین کے لیے امداد فراہم کرنے والے ایک ادارے  کو عطیہ دینے کے الزام میں قید تھا، اور اس کے بدلے امریکا نے ایک جرمن روسی شہری کو رہا کیا جس پر حساس امریکی الیکٹرانکس کو روس کی فوج کے استعمال کے لیے برآمد کرنے کا الزام تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ کسنیا کاریلینا، جو روسی-امریکی شہری ہیں اور گزشتہ سال روس کی عدالت میں یوکرین کو انسانی امداد فراہم کرنے والی ایک امریکی خیرات کو عطیہ دینے کے جرم میں غداری کے الزام میں سزا یافتہ تھیں، اپنے وطن واپس جا رہی ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے خبر ایجنسی کو ایک بیان میں کہا کہ  "آج، صدر (ڈونلڈ) ٹرمپ روس سے ایک اور غلط طور پر قید امریکی شہری کو واپس  لائے ہیں ،"

انہوں نے کہا کہ "مجھے ان سی آئی اے افسران پر فخر ہے جنہوں نے اس کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے انتھائی محنت کی، اور ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تبادلے کو ممکن بنایا۔"

قبل ازیں  فروری میں امریکی استاد مارک فوگل کو روسی جیل سے آزاد کر دیا گیا تھا، جس میں ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو کے دورے کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور روس کے خودمختار   ویلتھ فنڈ کے چیف کرل دیمیتریو نے اس مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔

خیال رہے کہ  گزشتہ سال اگست میں، امریکا اور روس نے سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا جس میں 24 قیدیوں کو آزادی ملی تھی۔ جن میں امریکی صحافی ایون گیرشکووچ اور سابق امریکی میرین پال ویہلین شامل تھے۔

کاریلینا کے روسی وکیل مکھائل مشائلوف نے بتایا کہ  کاریلینا نے جمعرات کی صبح ابو ظہبی سے امریکا کے لیے پرواز کی۔ 

Watch Live Public News