ایران جنگ معاملہ: ڈونلڈٹرمپ امریکی صحافیوں پر برس پڑے

ایران جنگ معاملہ: ڈونلڈٹرمپ امریکی صحافیوں پر برس پڑے
کیپشن: ایران جنگ معاملہ: ڈونلڈٹرمپ امریکی صحافیوں پر برس پڑے

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صحافیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ٹکر کارلسن، میگین کیلی، کینڈیس اوونز اور ایلکس جونز ان سے کیوں اختلاف کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک تفصیلی بیان میں ان تمام شخصیات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ افراد ایران کے حوالے سے نرم مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ وہ ایران کو ’’دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی معاون‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ شخصیات ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی پالیسی کی مخالفت کر رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام افراد میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ’’کمزور فہم‘‘ اور ’’غلط سوچ‘‘ ہے۔

ان کے مطابق یہ میڈیا شخصیات اپنی شہرت کے باوجود عوامی اعتماد کھو چکی ہیں اور اب نسبتاً کم اثر رکھنے والے پلیٹ فارمز تک محدود ہو گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ افراد ماضی میں بڑے ٹی وی چینلز سے وابستہ رہے، تاہم اب مرکزی دھارے کے میڈیا سے دور ہو چکے ہیں اور ان کی آراء کو پہلے جیسی اہمیت حاصل نہیں رہی۔

صدر ٹرمپ نے ٹکر کارلسن کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، جبکہ میگین کیلی کے ساتھ ماضی کے انٹرویوز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح انہوں نے ایلکس جونز کو متنازع بیانات کی وجہ سے تنقید کا ہدف بنایا اور کینڈیس اوونز پر سازشی نظریات کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان میڈیا شخصیات کی تنقید دراصل ان کی ’’میگا‘‘ (MAGA) سیاسی تحریک کے اصولوں سے انحراف ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے معاملے پر امریکا کے اندر سیاسی تقسیم نمایاں ہو رہی ہے۔ سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے بھی حالیہ بیانات میں جنگی پالیسیوں اور سخت مؤقف کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نہ صرف عالمی سطح پر اثرانداز ہو رہی ہے بلکہ امریکا کے اندر بھی سیاسی، میڈیا اور نظریاتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

Watch Live Public News