(ویب ڈیسک ) امریکی ریاست جارجیا میں ایک گھر پر گرنے والے شہابیہ سے متعلق سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شہابیہ زمین کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے اور اس کی عمر اربوں سال بتائی گئی ہے۔
26 جون 2024 کو اٹلانٹا کے قریب ایک رہائشی گھر پر شہابیہ کا ٹکڑا گرا، جس نے زمین پر صرف ڈیڑھ سینٹی میٹر گہرا گڑھا پیدا کیا۔ یونیورسٹی آف جارجیا کے ماہر ارضیات پروفیسر اسکاٹ ہیریس نے جائے وقوعہ پر جا کر معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ یہ شہابیہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود سیارچوں کی بیلٹ سے آیا ہے۔
پروفیسر ہیریس کے مطابق، ایسے شہابی پتھروں کا مطالعہ سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی ابتدا میں موجود حالات اور عمل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ شہابی مادے ساڑھے چار ارب سال پرانے ہوتے ہیں، جن کا جائزہ لے کر سائنسدان مستقبل میں زمین سے ٹکرانے والے ممکنہ سیارچوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ شہابیہ سائنسی تحقیق کے لیے ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے، جس سے نہ صرف کائناتی تاریخ کو سمجھا جا سکتا ہے بلکہ زمین کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔