سویلنز کاملٹری ٹرائل کیس:زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد

سویلنز کاملٹری ٹرائل کیس:زیر حراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد
کیپشن: سویلین ٹرائل کیس:زیرحراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس میں زیرحراست افراد کی عام جیلوں میں منتقل کرنے کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد کردی۔

 تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس  امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث بیمار ہیں،خواجہ حارث معدے کی تکلیف کے باعث نہیں آ سکے۔

آئینی بنچ نے زیرحراست افراد کی عام جیلوں میں منتقل کرنے کی لطیف کھوسہ کی استدعا مسترد کردی۔

لطیف کھوسہ نے کہاکہ عام جیلوں میں زیرحراست افراد سے کم از کم ملاقات ہو سکتی ہے۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ ملاقات کے حوالے سے اٹارنی جنرل یقین دہانی کرا چکےہیں،مقدمہ سن رہے ہیں، فی الحال کسی اور طرف نہ جائیں، سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے معاملے پر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت روکنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا تھا۔

عدالت نے وفاق کی فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کر دی تھی ۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگر ایسا کیا تو پھر فوجی عدالتوں کے سویلین ٹرائل کا اختیار سماعت کا معاملہ ہی حل ہو جائے گا۔

Watch Live Public News