اسرائیل کے حملے:جنگی طیارے،ہیلی کاپٹرتباہ، شامی فضائیہ کا نام ونشان مٹادیا

اسرائیل کے حملے:جنگی طیارے،ہیلی کاپٹرتباہ، شامی فضائیہ کا نام ونشان مٹادیا
کیپشن: اسرائیل کے حملے:جنگی طیارے،ہیلی کاپٹرتباہ، شامی فضائیہ کا نام ونشان مٹادیا

ویب ڈیسک: اسرائیلی ایف 15 طیاروں کی ائیربیسز پر اندھا دھند بمباری، درجنوں طیارے ، ہیلی کاپٹر تباہ، شامی فضائیہ کا نام ونشان مٹ گیا۔ اسرائیلی ٹینک دمشق سے 25 کلومیٹر کی دوری پر ہونے کے دعوے منظرعام پر آگئے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیٹ طیاروں نے جنوبی شام اور دمشق شہر کے اطراف میں 300 اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فضائیہ کا ہدف شامی فوج کے اڈے تھے۔ شامی فضائیہ کے درجنوں طیارے تباہ کردئیے گئے جبکہ فضائی دفاعی نظام ، ائیر ٹو ائیر میزائل اور زمین سے فضا میں مارکرنیوالے میزائل ذخیروں کو بھی اڑا دیا گیا۔ 

اسرائیلی آپریشن کے بعد اب شام کی فضاؤں میں محض اسرائیلی فضائیہ کا راج ہوگا۔

اسرائیلی سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے فضائیہ کی آپریشنل آزادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

شام کے دو سیکورٹی ذرائع  کے مطابق آئی اے ایف کے ایف 15 طیاروں نے شامی فوج کے کم از کم تین بڑے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جہاں درجنوں ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیارے موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ شمال مشرقی شام میں قمشلی ہوائی اڈہ، حمص کے دیہی علاقوں میں واقع شنشار اڈہ اور دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع عقربا ہوائی اڈہ سبھی کو نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق  اسرائیلی فضائیہ نے دمشق کے مضافات میں واقع ایک تحقیقی مرکز اور دارالحکومت کے سیدہ زینب کے علاقے کے قریب الیکٹرانک وارفیئر کے ایک مرکز پر بھی متعدد حملے کیے ہیں۔

کئی شامی  بحری  جہازوں کو آئی اے ایف نے بندرگاہ میں ہی ڈبو دیا  ہے۔

عرب رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے، اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ آئی ڈی ایف کے ٹینک دمشق سے تقریباً 20 کلومیٹر دور پہنچ گئے ہیں۔ شامی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی قطانہ پہنچ گئے جو 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد" کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا کہ اتوار کی صبح بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں پر تقریبا 310 فضائی حملے کیے ہیں۔

رامی کے مطابق ان حملوں میں اہم فوجی مقامات اور شامی فوج کے اثاثوں کو تباہ کر دیا گیا البتہ یہ تمام جگہیں انسانوں سے خالی تھیں۔ انھوں نے زور دے کر بتایا کہ یہ حملے شام کے فوجی ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کر ڈالیں گے۔

رامی نے بتایا کہ اسرائیلی بم باری میں ہوائی اڈوں، گوداموں، طیاروں، ریڈار آلات، ملٹری سگنل کے اسٹیشنوں، ہتھیارں کے ڈپوؤں، سائنسی تحقیق کے مراکز اور فضائی دفاعی نظاموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح اسرائیل نے ملک کے شمال مغرب میں لاذقیہ کی بندرگاہ پر فضائی دفاع کی تنصیب اور جنگی جہازوں پر بھی حملے کیے۔

Watch Live Public News