ویب ڈیسک: دنیا بھر میں 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر غاصب مودی کے زیر اقتدار بھارت میں صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ غاصب بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں عالمی سطح پر سرِ فہرست ہے۔ قابض بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کیخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی میں مذہبی انتہا پسندی، خواتین اور اقلیتوں پر مظالم اور میڈیا کی آزادی پر پابندیاں نمایاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے بارہا مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیاں رپورٹ کیں۔ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے اہم ترین انسانی حقوق کے بحرانوں میں شمار ہوتی ہے۔ کشمیری عوام مسلسل سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں، قتل، جبری گمشدگی، تشدد اور آزادیوں پر شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔
تنظیم تعاون اسلامی کی آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن(او آئی سی،آئی پی ایچ آر سی) کی رپورٹ کے مطابق 94,000سے زائد کشمیری، بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیری علاقے میں شہید کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے، 7,000 سے زائد افراد بھارتی حراست میں شہید ہوئے۔ 1989 سے بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز نے 10,000 سے زائد خواتین کی عصمت دری اور ہراسانی کی۔
ٹی آرٹی ورلڈ کے مطابق آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعدمقبوضہ وادی کے شہری شدید نفسیاتی بحران کی لپیٹ میں آ چکےہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی مسلمان مودی کے دور اقتدار میں اپنے مستقبل کے بارے میں شدید خوف کا شکار ہیں۔
مسلمی نیوز کے مطابق مودی کی بلڈوزر پالیسی کے تحت گجرات میں 7,000 سے زائد مسلمانوں کے گھر مسمار کیے جا چکے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتیں بھی مودی کی سفاکیت کا شکار ہیں۔
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق مودی دور میں عیسائی اقلیتیں خطرے میں ہیں اور مذہبی عدم برداشت شدت اختیار کرچکی ہے۔
دوسری جانب منی پور میں جاری علیحدگی پسندتحریکیں اور نسلی تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔
اے پی نیوز کے مطابق شمال مشرقی بھارت میں نسلی تشدد سے لاکھوں افراد بے گھر، کیمپوں میں انتہائی خراب حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مودی دور میں آزادی اظہار محدود، آزادی صحافت پر قدغَن عائد ہے۔
کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال سے اظہار رائے کی آزادی خطرے میں ہے۔ غاصب مودی بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی سنگین جرائم میں ملوث ہے۔
دی فرائڈے ٹائمز کے مطابق مودی سرکار کے اقتدار میں آنے سے بھارت کا " انسانی حقوق" کا ریکارڈ بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیئے کہ بھارت میں جاری انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیوں کافوری طور پر نوٹس لے تاکہ پورے خطہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔