ویب ڈیسک: بھارتی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ سید مشتاق علی ٹرافی کے لیے سلیکشن نہ کیے جانے پر تین کرکٹرز نے انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ پر مبینہ طور پر حملہ کر دیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشن آف پانڈیچیری (CAP) کے انڈر 19 کوچ ایس وینکٹارمن کو مبینہ طور پر "جان سے مارنے کی نیت" سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ 8 دسمبر کی صبح پیش آیا، جس میں کوچ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور کندھے میں فریکچر ہو گیا۔ ان کے سر پر 20 ٹانکے بھی لگائے گئے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ نامزد تین کرکٹرز تاحال مفرور ہیں۔
وینکٹارمن نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی دسن پانڈیچیری کرکٹرز فورم کے سیکرٹری جی چندرن نے مبینہ طور پر تینوں کھلاڑیوں کو ان پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صبح 11 بجے CAP کمپلیکس کے انڈور نیٹ میں موجود تھے، جب سینئر کرکٹرز کارتیکیان، اروند دراج اور سنتوش کمارن آئے اور انہیں گالیاں دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہی وجہ ہیں کہ انہیں سید مشتاق علی ٹرافی میں منتخب نہیں کیا گیا۔
شکایت کے مطابق اروند دراج نے کوچ کو پکڑ لیا جبکہ کارتیکیان نے سنتوش کمارن کا بیٹ لے کر ان پر حملہ کیا۔
دوسری جانب فورم کے صدر سینتھل کمارن نے جی چندرن کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینکٹارمن کے خلاف پہلے بھی مختلف نوعیت کی شکایات موجود ہیں۔ ان کے مطابق کوچ مقامی کرکٹرز سے بدتمیزی اور نامناسب زبان استعمال کرنے کی وجہ سے بدنام ہیں۔