ویب ڈیسک: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے) کے کرپشن اسکینڈل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، گرفتار سب انسپکٹر صارم نے کال سینٹرز سے بھتہ لینے کا اعتراف کر لیا ہے۔
صارم نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ کال سینٹرز سے پیسے جمع کرتا تھا اور ان پیسوں کو افسران تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے 15 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کرائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کے فرار ہونے والے افسران کی گرفتاری کے لیے متعلقہ ڈی پی اوز کو خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے ملوث اہلکاروں اور ملزمان کی بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں میوچل لیگل اسسٹنٹس کو خطوط لکھے جائیں گے۔
اس سے قبل، این سی سی آئی اے نے یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ بعد ازاں، ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی نے این سی سی آئی اے کے افسران کی جانب سے کروڑوں روپے کی رشوت لینے کا انکشاف کیا تھا، جس کے بعد مقدمہ درج کر کے ایف آئی اے نے افسران کو گرفتار کیا تھا۔
این سی سی آئی اے کے 2 ایڈیشنل اور ڈپٹی ڈائریکٹرز سمیت 13 افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کرکے غیر قانونی کال سینٹرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔
ملزمان کا ٹرائل متعلقہ کورٹ میں جاری ہے اور مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔