جوبائیڈن کے بعد انٹونی بلنکن سمیت 7افراد کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ

جوبائیڈن کے بعد انٹونی بلنکن سمیت 7افراد کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ
کیپشن: جوبائیڈن کے بعد انٹونی بلنکن سمیت 7افراد کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن سمیت کئی اہم شخصیات کی سیکیورٹی کلیئرنس ہٹانے کا حکم دیدیا۔ ان شخصیات میں مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ، اور نیویارک کے اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد ٹرمپ کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ 

یاد رہے کہ جیمز اور بریگ گزشتہ سال نیویارک میں ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ جیمز کے دفتر نے ہی جمعے کو 18 دیگر ڈیموکریٹک ریاست کے اٹارنی جنرلز کی جانب سے محکمہ خزانہ کے ادائیگی کے نظام تک حکومت کی کارکردگی کے محکمے کی رسائی پرایک مقدمہ دائر کیا۔

سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، بائیڈن کی ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو، اٹارنی اینڈریو ویس مین، مارک زید اور نارم آئزن کی بھی منظوری منسوخ کر دی گئی تھی۔

نارم آئزن کو بھی ٹرمپ کا ناقد مانا جاتا ہے۔ جنہوں نے محکمہ انصاف پر ایف بی آئی ایجنٹوں کی 6 جنوری کے ہنگاموں میں شناخت روکنے کا مقدمہ دائر کررکھا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے پہلے مواخذے پر ہاؤس ڈیموکریٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔

اس سے قبل ٹرمپ سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی سیکیورٹی کلیئرنس بھی ختم کرچکے ہیں۔ 

ٹرمپ نے جمعہ کی رات ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا ، "جو بائیڈن کو خفیہ معلومات تک رسائی جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام جوبائیڈن کے ہی شروع کردہ ہیں۔ 

ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بائیڈن نے 2021 میں انٹیلی جنس کمیونٹی کو ہدایت کی کہ وہ امریکا کے 45 ویں صدر (یعنی کہ مجھے) قومی سلامتی سے متعلق تفصیلات تک رسائی سے روکے۔ جو کہ سابق صدور کو فراہم کی گئی تھیں۔ 

بائیڈن نے ٹرمپ پر کینہ پروری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدور عام طور پر عہدہ چھوڑنے کے بعد انٹیلی جنس بریفنگ حاصل کرتے رہتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بائیڈن کی یادداشت خراب ہے۔ اس لیے ان پر حساس معلومات کے حوالے سے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں ہمیشہ قومی سلامتی کی حفاظت کروں گا اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ 

Watch Live Public News