ویب ڈیسک : سپریم کورٹ نے ڈونلڈٹرمپ کے ہش منی کیس میں آئندہ ہونے والی سزا کو روکنے سے سے انکار کر دیا ہے۔عدالت نے 5-4 کی اکثریت سے نو منتخب صدر کو اپنے نیویارک کے ہش منی کیس میں سزا سنانے میں تاخیر کرنے کی اپیل مسترد کردی، توقع ہے کہ صدر ٹرمپ کے وکلا نظرثانی اپیل دائر کریں گے۔
جمعرات کی شام سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نام لئے بغیر جج مرشان کے حوالے سے کہاہے کہ "ہم بہرحال اپیل کرنے جا رہے ہیں، صرف نفسیاتی طور پر، کیونکہ واضح طور پر یہ ایک بے عزتی ہے۔ یہ ایک جج ہے جسے اس کیس پر نہیں ہونا چاہئے تھا۔
ٹرمپ نے، جو 20 جنوری کو دوسری بار اپنے عہدہ صدارت کا حلف اٹھائیں گے، سپریم کورٹ میں جمعے کو دی جانے والی سزا کی منسوخی کی درخواست کی تھی ۔ یادرہے نیو یارک کی عدالتوں نے جج ہوان ایم مرشان کی جانب سے دی گئی سزا کو ملتوی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جج ہوان ایم مرشان نے گزشتہ مئی میں ٹرمپ پر بزنس ریکارڈز میں جعلسازی کے 34 الزامات پر مقدمے اور سزاکی سماعت کی صدارت کی تھی۔
امریکی تاریخ میں پہلا ’سزا یافتہ ’ صدر
جج ہوان ایم مرشان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جیل کی سزا نہیں دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود سزا کی سماعت کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرمپ اپنے سرکاری ریکارڈ میں لکھے گئے مجرمانہ سزا کے ساتھ عہدہ سنبھالنے والے پہلے صدر ہوں گے۔
ٹرمپ کے وکلا کا موقف
نیو یارک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ٹرمپ کے وکلاء نے کہا کہ مرشان اور ریاست کی درمیانے درجےکی اپیل کورٹ دونوں سزا کو روکنے میں ’’ غلطی سے ناکام ‘‘ ہوئے تھے ۔ ٹرمپ کے وکلا کی دلیل ہے کہ مجرم ٹھہرانے کے بھی ناقابل برداشت ضمنی اثرات ہوں گے جن میں منصب صدارت سنبھالنے کی تیاریوں سے ممکنہ طور پر ان کی توجہ ہٹانا شامل ہے ۔
ٹرمپ کے تعینات شدہ ججز نے لبرل ججوں کا ساتھ دیا
بنچ میں شامل ج دو کنزرویٹو ججز نے لبرل ججوں کا ساتھ دیا – لبرلز میں شامل ہونے والے دو قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس اور جسٹس ایمی کونی بیرٹ تھے، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں تعینات کیا تھا۔ یادرہے جج رابرٹس 20 جنوری کو نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حلف لیں گے۔ قیا س ہے کہ چار دیگر کنزرویٹو ججز نے ٹرمپ کی سزا میں تاخیر کی درخواست منظور کر لی ہوگی،
دوسری طرف ٹرمپ کے وکلاء نے اس کیس کو سیاسی محرک پر مبنی قرار دیا اور انہوں نے کہا کہ سزا سے ری پبلکن صدارتی منتقلی میں خلل پڑ سکتاہے جب کہ وہ صدارتی منصب پر واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔
ان کے ڈپٹی اٹارنی جان سوئر نے لکھا کہ ٹرمپ کو اب سزا دینا ایک شدید ناانصافی ہو گی۔ سوئر ٹرمپ کے آئندہ کے سولسٹر جنرل کا انتخاب بھی ہیں جو ہائی کورٹ میں حکومت کی نمائندگی کرتا ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس مئی میں نیویارک کی ایک جیوری نے ٹرمپ پر سابق پورن اسٹار اسٹورمی ڈینیئل کو رقم کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات میں فردِ جرم عائد کی تھی۔
ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران پورن اسٹار کو مبینہ جنسی تعلقات پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے تھے۔ڈینئل کا دعویٰ تھا کہ ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم ٹرمپ اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔ٹرمپ بارہا کہتے رہے ہیں کہ اداکارہ کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے اور انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
مین ہیٹن عدالت کے جج ہوان مرشان نے صدارتی استنثنیٰ کی بنیاد پر کیس کو ختم کرنے اور فیصلہ واپس لینے کی ٹرمپ کی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔جج نے فیصلے میں لکھا کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔
حالات کی ستم ظریفی ، چار مقدمات میں سب سے کمزور مقدمے پر سزا
مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کی طرف سے لائے گئے ہش منی کیس کو طویل عرصے سے ان چار مجرمانہ معاملات میں سے سب سے کمزور سمجھا جاتا تھا جن کا ٹرمپ کو انتخابات سے قبل سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن ستم ظریفی دیکھئیے یہ واحد کیس تھا جو اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔
امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج تانیا چٹکن نے ٹرمپ کے خلاف وفاقی انتخابات میں مداخلت کا مقدمہ خارج کر دیا جب خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے نومبر کے انتخابات کے بعد محکمہ انصاف کی رہنمائی کے مطابق یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ صدر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
سپیشل اٹارنی اسمتھ کا ٹرمپ کے خلاف دوسرا استغاثہ - ان کے فلوریڈا کے گھر میں خفیہ دستاویزات رکھنے پر قائم ہوا تھا تاہم جب ٹرمپ کے مقرر کردہ جج ایلین کینن نے خصوصی وکیل اسمتھ کی تقرری کو ہی خلاف آئین قرار دے کر کیس کو خارج کردیا۔
ایک چوتھا استغاثہ، جارجیا میں 2020 کے انتخابات میں مبینہ مداخلت پر قائم کیا گیا تھا جس میں ایک اپیل کورٹ کی جانب سے فلٹن کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی فانی وِلیس کو اس کے ایک ساتھی پراسیکیوٹر کے ساتھ ماضی میں رومانوی تعلقات پر نااہل قرار دیا گیا تھا تاہم یہ کیس تعطل کا شکار ہے۔
ٹرمپ کو ایک اور قانونی شکست
نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ایک اور قانونی جنگ ہار گئے جب ایک وفاقی اپیل کورٹ نے محکمہ انصاف کو سمتھ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے سے روکنے سے انکار کر دیا۔ تاہم 11ویں یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے DOJ کی رپورٹ کے اجراء پر تین دن کی روک لگا دی، جس سے مزید اپیلوں کے لیے وقت مل سکتا ہے۔توقع ہے کہ ٹرمپ ایک بار پھر سپریم کورٹ سے اس پر غور کرنے کو کہیں گے۔