"ہش منی" کیس ، ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر مشروط رہائی مل گئی، جرم برقرار

(ویب ڈیسک ) "ہش منی" کیس ،نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر مشروط رہائی مل گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نو متنخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ٹرمپ  نے عدالت میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

 نیو یارک کی عدالت کے جج جوآن مرچن  نے ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر مشروط ڈسچارج کر دیا ۔غیر مشروط ڈسچارج کا مطلب ہے کہ ٹرمپ کو قید، جرمانہ یا پروبیشن کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، لیکن ان کا جرم برقرار ہے، اور وہ سزا یافتہ مجرم کے طور پر دفتر میں داخل ہوں گے۔ عدالت  نے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں  شامل کرنے کا حکم دے دیا۔

جج مرچن  کا کہنا ہے کہ غیر مشروط  رہائی  اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص کےلیےواحد قانونی سزا ہے۔

تاہم   ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جج نے ہش منی کیس کو غیر معمولی مقدمہ قرار دیا ۔

جج مرچن نے کہا کہ  عدالت کو پہلے کبھی ایسے منفرد حالات کے سامنا نہیں کرنا پڑا، صدارتی اختیارات جیوری کے فیصلے کو نہیں مٹاسکتے۔ایک طاقت جو وہ فراہم نہیں کرتے ہیں وہ جیوری کے فیصلے کو مٹانے کی طاقت ہے۔صدر کا دفتر غیر معمولی ہے، دفتر کا مقیم نہیں۔سزا دیناجج کےلیے سب سے مشکل اور اہم فیصلوں میں سے ایک ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  حقیقت یہ ہے کہ میں بے قصور ہوں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا، یہ کیس سیاسی اور میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا ، میں نے لاکھوں ووٹ لیے اور سوئنگ ریاستیں جیتیں۔

قبل ازیں  پریم کورٹ  نے ڈونلڈٹرمپ کے ہش منی کیس میں آئندہ ہونے والی سزا کو روکنے سے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت  نے  5-4 کی اکثریت سے نو منتخب صدر  کو اپنے نیویارک کے ہش منی کیس میں سزا سنانے میں تاخیر کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی۔

ہش منی کیس 

واضح  رہے کہ گزشتہ برس مئی میں نیویارک کی ایک جیوری نے ٹرمپ پر سابق پورن اسٹار اسٹورمی ڈینیئل کو رقم کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران پورن اسٹار کو مبینہ جنسی تعلقات پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے تھے۔ڈینئل کا دعویٰ تھا کہ ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم ٹرمپ اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔ٹرمپ بارہا کہتے رہے ہیں کہ اداکارہ کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے اور انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

مین ہیٹن عدالت کے جج نے صدارتی استنثنیٰ کی بنیاد پر کیس کو ختم کرنے اور فیصلہ واپس لینے کی ٹرمپ کی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔جج نے فیصلے میں لکھا کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔

Watch Live Public News