رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کا ساس کو کیا گیانجی وائس نوٹ لیک

رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کا ساس کو کیا گیانجی وائس نوٹ لیک
کیپشن: رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کا ساس کو کیا گیانجی وائس نوٹ لیک

ویب ڈیسک: معروف پاکستانی ڈیجیٹل کریئیٹر رجب بٹ کی اہلیہ ایمان رجب کا ایک نجی وائس نوٹ سوشل میڈیا پر لیک ہو گیا ہے، جس میں وہ اپنے کمسن بیٹے کی حفاظت اور پرائیویسی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ اس وائس نوٹ کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

لیک ہونے والے وائس نوٹ میں ایمان رجب کو اپنی ساس سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس میں وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے متعدد بار درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کیوان کا نام ہر ولاگ میں نہ لیا جائے، کیونکہ سوشل میڈیا پر بعض افراد ٹک ٹاک کے ذریعے بچے کو بددعائیں دیتے ہیں۔

وائس نوٹ میں ایمان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کا بیٹا عوامی توجہ کا مرکز بنے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی پیدائش اور اس کی ابتدائی حالت کے حالات وہ خود بہتر جانتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی نے اسے محفوظ رکھا ہے۔

بات کرتے ہوئے ایمان رجب جذباتی ہو گئیں اور روتے ہوئے کہا کہ نہ ان کے ساتھ ظلم کیا جائے اور نہ ہی ان کے بچے کے ساتھ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آئندہ کیوان کا نام یا ذکر ولاگز میں نہ آئے اور اس بات کو یقینی بنانا گھر والوں کی ذمہ داری ہے۔

وائس نوٹ کے مطابق ایمان کی بات سننے کے بعد رجب بٹ کی والدہ نے بچے کی سالگرہ کے موقع پر گھر آ کر کیک کاٹنے کی بات کی، تاہم ایمان نے کیک کی تقریب کے بجائے عقیقے کے جانور قربان کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

وائس نوٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے ایمان رجب کے مؤقف کی حمایت کی اور بچے کی پرائیویسی کے حق میں آواز بلند کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ ایمان کے جذبات کو سمجھ سکتا ہے اور ہر عورت اپنے بچوں کو سوشل میڈیا مواد کا حصہ نہیں بنانا چاہتی۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اگر ایمان نہیں چاہتیں کہ ان کا بیٹا ولاگز میں دکھایا جائے تو اس میں کوئی غلط بات نہیں اور ان کی خواہش کا احترام کیا جانا چاہیے۔

کچھ صارفین نے وائس نوٹ کے لیک ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نجی گفتگو کس نے اور کیوں لیک کی، اور اسے محفوظ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

یہ معاملہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بچوں کی پرائیویسی اور نجی زندگی کے تحفظ سے متعلق بحث کو اجاگر کر رہا ہے۔

Watch Live Public News