ویب ڈیسک: بھارتی ریاست پنجاب میں 28 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر منجیت کور کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد درخت سے باندھ کر زندہ جلانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
پولیس کے مطابق منجیت کور کو شدید جھلسنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں تقریباً دو ماہ زیرِ علاج رکھا گیا، تاہم وہ 26 اگست کو دم توڑ گئیں۔ ان کی موت کے بعد پولیس نے قتل اور اغوا کی دفعات کے تحت تفتیش شروع کردی۔
منجیت کور کی والدہ کانت دیوی کی جانب سے درج شکایت کے مطابق انہیں 3 جولائی کی رات چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں ایک شراب فیکٹری کے قریب بلایا گیا، جہاں سے شوبھی اور پنڈا نامی افراد نے مبینہ طور پر انہیں اغوا کیا اور مورنڈا لے گئے۔

شکایت کے مطابق ملزمان نے منجیت کور کو تشدد کا نشانہ بنایا، درخت سے باندھ کر آگ لگا دی اور فرار ہوگئے۔ ان کا ایک دوست موقع پر پہنچا اور انہیں اسپتال منتقل کیا۔
منجیت کور کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مورنڈا کے اسپتال، پھر موہالی کے نجی اسپتال اور بعد ازاں پی جی آئی ایم ای آر منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج رہیں۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ منجیت کور 5 اگست کو ہوش میں آگئی تھیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی تھیں، تاہم ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔