(ویب ڈیسک) آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے فرزند سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
ایران کی 88 رکنی مقتدر مذہبی و آئینی باڈی'مجلسِ خبرگانِ رہبری' (Assembly of Experts) نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد "فیصلہ کن ووٹ" کے ذریعے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ وہ اپنے والد اور سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔
سیدمجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای 8 ستمبر 1969ء کو مشہد کے ایک معزز مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے تہران اور حوزہ علمیہ قم (مقدس شہر) سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے قم کے مدرسے میں فقہ اور جدید اسلامی قوانین کے اعلیٰ درجے کے کورسز پڑھا رہے ہیں۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای نے 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران 'حبیب بٹالین' کے پلیٹ فارم سے متعدد اہم آپریشنز میں حصہ لیا اور عسکری نیٹ ورک میں گہرے روابط قائم کیے۔
طویل انتظامی تجربہ :
سید مجتبیٰ خامنہ ای نے طویل عرصے تک سپریم لیڈر کے بااثر ترین ریاستی ادارے "دفترِ رہبری" (The Beit) میں بطور نائب چیف آف اسٹاف (برائے سیاسی و سکیورٹی امور) خدمات سرانجام دیں۔ وہ اپنے والد کے معتمد ترین مشیر اور سکیورٹی اداروں بشمول پاسدارانِ انقلاب اور سویلین قیادت کے درمیان سب سے اہم کڑی سمجھے جاتے رہے ہیں۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے کل 6 بچے ہیں، جن میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
1۔ مصطفیٰ خامنہ ای
یہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے سب سے بڑے بیٹے اور مجتبیٰ خامنہ ای کے بڑے بھائی ہیں۔ یہ بھی اپنے والد اور بھائی کی طرح ایک مذہبی عالم ہیں۔ وہ قم کے حوزہ علمیہ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور سیاست یا میڈیا کی روشنی سے بالکل دور رہتے ہیں۔
2۔ مجتبیٰ خامنہ ای
سید مجتبیٰ خامنہ خاندان کے دوسرے بیٹے ہیں، جنہیں اب ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی شادی ایران کے معروف سیاستدان غلام علی حداد عادل کی بیٹی سے ہوئی ہے۔
3۔ مسعود خامنہ ای
یہ مجتبیٰ خامنہ ای سے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کا پورا نام 'سید مسعود حسینی خامنہ ای' ہے۔ یہ بھی ایک مذہبی سکالر ہیں اور تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کے آثار و کتب کو محفوظ اور شائع کرنے والے ادارے (حفظ و نشر آثارِ رہبری) سے وابستہ ہیں۔ ان کی شادی ایران کے سابق خارجہ وزیر کمال خرازی کے خاندان میں ہوئی ہے۔
4۔ میثم خامنہ ای
یہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ یہ بھی تہران کے ایک مذہبی اور تحقیقی ادارے (دفترِ حفظ و نشر آثار) میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح میڈیا اور پبلک لائف سے دور رہ کر علمی کاموں پر توجہ دیتے ہیں۔
5۔ بشریٰ خامنہ ای
یہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی بیٹی ہیں۔یہ انتہائی سادگی پسند خاتون ہیں اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا سرکاری سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں۔ ان کی شادی محمد جواد باقری (جو کہ تہران کے ایک معزز مذہبی گھرانے سے ہیں) سے ہوئی ہے۔
6۔ ہدیٰ خامنہ ای
یہ بھی شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی بیٹی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی بہن ہیں۔ اپنے خاندان کی روایات کے مطابق یہ بھی مکمل طور پر میڈیا اور عوامی سیاست سے دور رہتی ہیں اور تہران میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی شادی ایک مذہبی اور علمی پس منظر رکھنے والے شخص (محمد رضا محمدی فر) سے ہوئی ہے۔