ویب ڈیسک: بھارت میں سوشل میڈیا سے جنم لینے والی نوجوانوں کی منفرد تحریک ’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہے اور اسے ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک غیر متوقع چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں نئی دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اس تحریک نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ نوجوانوں کی جانب سے بے روزگاری، معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانوی اخبار "دی گارڈین" نے اپنی ایک رپورٹ میں اس تحریک کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ سوشل میڈیا میمز اور آن لائن مہمات سے شروع ہونے والی یہ تحریک نوجوان نسل میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور مستقبل میں بھارتی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تحریک خاص طور پر ان نوجوانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے جو روزگار، معاشی مواقع اور سماجی مسائل کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں اور روایتی سیاسی جماعتوں سے مطمئن نہیں۔
نئی دہلی میں ایک احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ نوجوان اپنے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نوجوانوں کی سیاسی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئی نسل اپنی آواز مؤثر انداز میں سامنے لانا چاہتی ہے۔
سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی مقبولیت نوجوانوں میں پائی جانے والی بے روزگاری، معاشی مشکلات اور سیاسی نظام سے عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں نئی سیاسی تحریکیں روایتی سیاست کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے عوامی حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا ’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ سوشل میڈیا مقبولیت کو عملی سیاسی قوت میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں، تاہم اس نے نوجوانوں کے مسائل کو قومی سطح پر بحث کا موضوع ضرور بنا دیا ہے۔