ویب ڈیسک :شہری آزادیوں سے محرومی، امریکا بھی جمہوریہ کانگو، اٹلی ، پاکستان اور سربیا کی صف میں شامل ہوگیا۔ Civicus نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے 50 دنوں کے بعد ہی امریکا کو عالمی واچ لسٹ میں شامل کرلیا۔
Civicus، ایک بین الاقوامی غیر منافع بخش تنظیم ہے جس کے تحت ان ممالک کو Monitor واچ لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے جن کے بارے میں عالمی شہری حقوق کے نگراں ادارے کا خیال ہے کہ وہاں شہری آزادیوں میں تیزی سے کمی کا سامنا ہے۔
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق Civicusنے پیر کو 2025 کی پہلی لسٹ میں جمہوریہ کانگو، اٹلی، پاکستان اور سربیا کے ساتھ ساتھ، امریکا کو شامل کرنے کا اعلان کیا۔
واچ لسٹ Civicus Monitor کا حصہ ہے، جو 198 ممالک میں شہری آزادیوں میں ہونے والی پیش رفت کو ٹریک کرتا ہے۔ اس سے پہلے واچ لسٹ میں شامل دیگر ممالک میں زمبابوے، ارجنٹائن، ایل سلواڈور اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
Civicus کے شریک سیکرٹری جنرل مندیپ ٹوانہ نے کہا ہے کہ واچ لسٹ میں ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جہاں پرامن اجتماع، انجمن اور اظہار رائے کی آزادی کے سلسلے میں شہری بگڑتے حالات کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں"۔
گروپ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں "ٹرمپ انتظامیہ کے جمہوری اصولوں اور عالمی تعاون پر حملہ کےحالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ان سےممکنہ طور پر پرامن اسمبلی، اظہار رائے اور آئینی آزادیوں پر شدید اثر پڑے گا"۔
ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد اقدامات وفاقی ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفی، اہم سرکاری عہدوں پر ٹرمپ کے وفاداروں کی تقرری، عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل جیسی بین الاقوامی کوششوں سے دستبرداری، وفاقی اور غیر ملکی امداد کو منجمد کرنا اور یو ایس ایڈ کو ختم کرنے کی کوشش کا ذکر کیا گیا ہے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ فیصلے "ممکنہ طور پر شہری آزادیوں کو متاثر کریں گے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے مشکل سے حاصل ہونے والے نتائج کو پلٹا کر رکھ دیںگے"۔
ٹرمپ انتظامیہ کے فلسطینی حامی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور صدارتی بریفنگ تک میڈیا کی رسائی کو کنٹرول کرنے کے غیرمعمولی فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا۔
Civicus نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کے اقدامات کو "قانون کی حکمرانی پر بے مثال حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میکارتھی ازم کے دنوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔
دوسری جانب سوکس نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں صحافیوں کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت نشانہ بنایا گیا، ان پر ریاستی اداروں کے خلاف ’جھوٹی کہانیاں پھیلانے کا الزام‘ لگایا گیا تھا۔
مانیٹر نے مزید کہا کہ پیکا میں جنوری میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ آزادی اظہار پر اپنے کنٹرول کو مزید سخت کیا جاسکے، جبکہ اس نے نوٹ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس فروری 2024 سے پاکستان میں بند ہے، سوکس نے اپنی پریس ریلیز میں احتجاج کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا بھی ذکر کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف اور نسلی اقلیتی گروہوں کی جانب سے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن اور صحافیوں کو نشانہ بنانا اور ڈیجیٹل پابندیاں پاکستان کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی سفارشات کے بھی خلاف ہیں۔
سوکس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے شہری اور سیاسی حقوق پر پاکستان کے ریکارڈ کا جائزہ لیا، اور اکتوبر 2024 میں شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے سفارشات پر زور دیا۔