ویب ڈیسک :(علی زیدی) ڈاؤن سائزنگ کے بعد ایلون مسک کی مخالفت میں اضافہ، ٹیسلا گاڑیوں پر شہریوں کے حملے، محفوظ رہنے کے لئے مالکان نے مسک مخالف اسٹکرز لگا دئیے ۔
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کے محکمہ DOGE کی جانب سے سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر نوکریاں ختم کرنے اور جنوری میں نازی سلیوٹ کرنے کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص کے خلاف امریکی شہریوں میں بڑے پیمانے پر غم وغصہ پایا جارہا ہے۔اور اس کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ٹریفک سگنلز پر کھڑی ٹیسلا گاڑیوں اور ان کے مالکان کے خلاف نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔
ٹیسلا گاڑیوں کے خلاف اس ملک گیر احتجاج کے بعد کچھ ٹیسلا گاڑی مالکان نے تو پریشان ہوکر اپنی گاڑیاں فروخت کردیں جبکہ باقیوں نے اپنے گاڑی پر نمایاں جگہ پر ایلوس مسک مخالف اسٹکر لگانے شروع کردئیے ہیں ۔
حالیہ ہفتوں میں ٹیسلا کے خلاف تحریک نے زور پکڑا ہے، امریکا بھر میں ٹیسلا کے درجنوں شو رومز کے باہر مظاہرے ہوئے۔
اس سال ٹیسلا کا اسٹاک تقریباً ایک تہائی گر گیا ہے جبکہ یورپ میں فروخت میں کمی آئی ہے۔ اس کمی نے مسک کی مجموعی مالیت کو بھی متاثر کیا ہے، حالانکہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں۔

ایک دکاندار میھتیو ہلر ن برنس انسائیڈر کو بتایا کہ وہ ایک دن میں 400 تا 500 ایلون مسک مخالف اسٹکرز روزانہ فروخت کررہا ہے۔
یادرہے ٹیسلا گاڑیوں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سیکنڈ ہینڈ ٹیسلا بھی نہیں بک رہی اور مالکان کو ان کی منہ مانگی قیمت نہیں مل رہی ۔
ایلون مسک مخالف اسٹکرز کی قیمت 6.28 ڈالر سے لے کر 12.54 ڈالر تک ہے ۔ اور یہ اسٹکرز اب امریکا سے باہر بھی مقبول ہو چکے ہیں، وینڈر کو فرانس، ناروے، جاپان، کینیڈا، ایسٹونیا، ملائیشیا اور آئرلینڈ کے صارفین سے آرڈر مل رہے ہیں۔