کیا آپ27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کے بارے میں جانتے ہیں؟

کیا آپ27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کے بارے میں جانتے ہیں؟
کیپشن: کیا آپ27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات کے بارے میں جانتے ہیں؟

ویب ڈیسک: سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اجلاس آج جاری ہے۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئینی مسودے پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ترمیمی بل کا حتمی مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے 27ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت آئینی عدالت کا چیف جسٹس صدرِ مملکت مقرر کریں گے، جب کہ عدالت سات ججوں پر مشتمل ہوگی۔ بقیہ چھ ججوں کی نامزدگی آئینی عدالت کا سربراہ کرے گا۔

کمیٹی نے ججز کے تبادلے سے متعلق ترمیم کی بھی منظوری دی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق جو جج تبادلے پر رضامند نہیں ہوگا، اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا اور اسے مکمل مراعات اور پنشن دی جائے گی۔ تاہم، نئی تجویز کے مطابق ایسے ججز جن کا تبادلہ ہوچکا لیکن وہ جانے سے گریزاں ہیں، انہیں فوری طور پر ریٹائر نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم کو آئینی طور پر پہلے ہی استثنیٰ حاصل ہے۔‘‘

ترمیمی مسودے میں آرٹیکل 243 کے تحت مسلح افواج کے ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے تخلیق کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت دونوں عہدوں کا تقرر کریں گے، جب کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم کردیا جائے گا۔

ترمیم کے مطابق، حکومت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افسران کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدوں پر ترقی دے سکے گی۔ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات برقرار رہیں گی۔

مزید یہ کہ آئینی ترمیم میں بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، تاہم حتمی تعداد طے ہونا ابھی باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایم کیو ایم کی بلدیاتی نمائندوں سے متعلق فنڈز کی ترمیم پر بھی اتفاق ہوگیا ہے، جب کہ اے این پی نے صوبے کا نام ’’خیبرپختونخوا‘‘ سے ’’پختونخوا‘‘ کرنے کی ترمیم پیش کی ہے۔

کمیٹی نے زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔

ترمیم میں ریٹائرڈ صدر کے استثنیٰ سے متعلق امور اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر مشاورت تاحال جاری ہے۔

Watch Live Public News