ویب ڈیسک: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا اور دھمکیاں دینے کے کیس میں ملزم حسن زاہد کی ضمانت خارج کر دی گئی ہے۔
پولیس نے ملزم حسن زاہد کو اغوا کے مقدمہ میں گرفتار کر لیا، اور عدالت سے 8 دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ اسی مقدمہ میں عدالت نے ملزم کے خلاف دھمکیاں دینے اور نقدی چھیننے کے الزام میں 2 دن کا جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا۔
پولیس کے مطابق، ملزم سے موبائل، گاڑی اور اسلحہ برآمد کیا جائے گا، اور ملزم کی نشاندہی پر دیگر شریک ملزمان کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سامعہ حجاب نے اپنے اغوا کی کوشش کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، حسن زاہد نے انہیں گاڑی میں بٹھا کر کہا کہ وہ انہیں اپنے گھر کے بیسمنٹ میں بند کر دے گا تاکہ کوئی ان کو نہ ڈھونڈ سکے۔ سامعہ نے بتایا کہ حسن زاہد کا گھر لاہور میں ہے اور وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔ ان کی دوستی چھ ماہ قبل ہوئی، جس کے بعد منگنی بھی ہوئی۔ ابتدائی تین ماہ میں وہ بہت اچھا رہا، لیکن ثنا یوسف کے قتل کے بعد وہ اپنی حقیقت ظاہر کرنے لگا اور سامعہ کو نظر انداز کرنے پر اس نے ہراسانی شروع کر دی۔
سامعہ کا کہنا تھا کہ حسن زاہد نہ صرف نیب کو مطلوب ہے، بلکہ اس کے خلاف متعدد ایف آئی آر بھی درج ہیں۔ جب انہوں نے اس حقیقت کا پتہ چلا تو شادی سے انکار کر دیا اور انگوٹھی واپس کر دی، جس کے بعد ملزم نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
سامعہ نے مزید بتایا کہ حسن زاہد کی والدہ بھی انہیں دباؤ ڈال کر شادی کے لیے مجبور کر رہی تھیں اور بار بار ان سے مل کر رونا دھونا کرتی تھیں۔