ویب ڈیسک: ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں اور کسانوں کے بگڑتے معاشی حالات کے باعث زرعی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے، جس کے اثرات زرعی مشینری خصوصاً ٹریکٹروں کی فروخت پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پاما) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2025ء میں ٹریکٹروں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 67 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رواں سال مارچ میں ملک بھر میں صرف 1,538 ٹریکٹر فروخت ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ تعداد 4,608 تھی۔
پاما کے مطابق مالی سال 2025ء کے ابتدائی 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران مجموعی طور پر 23,230 ٹریکٹر فروخت ہوئے، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 34 فیصد کم ہیں۔
تاہم گاڑیوں کے دیگر شعبوں میں کچھ مثبت رجحانات بھی دیکھنے میں آئے۔ پاما کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2025ء کے انہی 9 مہینوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 1,01,000 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 46 فیصد کا سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
مارچ 2025ء کے مہینے میں مجموعی گاڑیوں کی فروخت 11,000 یونٹس رہی، جس میں سالانہ بنیاد پر 8 فیصد کی نمو دیکھی گئی۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر فروخت میں 8 فیصد کی کمی بھی رپورٹ کی گئی، جو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ بسوں کی فروخت میں مارچ 2025ء میں سالانہ بنیاد پر 174 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے تحت اس مہینے میں 107 یونٹس فروخت ہوئے۔