ویب ڈیسک: دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل گوگل نے راتوں رات اپنے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔ یہ ملازمین"پلیٹ فارمز اینڈ ڈیوائسز" یونٹ میں گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم، پکسل اسمارٹ فونز اور کروم براؤزر پر کام کررہے تھے۔
یہ معلومات امریکی ٹیک میڈیا ادارے The Information نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کی ہیں۔
پہلے رضاکارانہ اسکیم، اب جبری چھانٹیاں:
رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے رواں سال جنوری میں ان ٹیمز کے ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی (buyout) کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، اب تازہ فیصلے کے تحت کچھ ملازمین کی جبری چھانٹی بھی کی گئی ہے۔
گوگل کے ترجمان نے The Information کو بتایا کہ "گزشتہ سال ہم نے Platforms اور Devices ٹیموں کو ضم کیا تھا تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسی عمل کے تحت ہم نے نہ صرف رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش کی، بلکہ کچھ چھانٹیاں بھی کی ہیں تاکہ ادارے کو مزید موثر بنایا جا سکے۔"
پہلے کلاؤڈ، اب پلیٹ فارمز
اس سے قبل فروری 2025 میں خبر رساں ادارے بلوم برگ نے رپورٹ کیا تھا کہ گوگل نے اپنی کلاؤڈ ڈویژن میں بھی محدود پیمانے پر چھانٹیاں کی تھیں، جن سے صرف چند مخصوص ٹیمیں متاثر ہوئیں۔
یاد رہے کہ جنوری 2023 میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے عالمی سطح پر 12,000 ملازمین کی چھانٹی کا اعلان کیا تھا، جو اس وقت کی کمپنی کی کل ورک فورس کا تقریباً 6 فیصد تھا۔
ٹیک انڈسٹری میں تبدیلی کی لہر جاری
گوگل کی جانب سے مسلسل کی جانے والی یہ کٹوتیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے اور منافع بخش شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ خاص طور پر AI، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبے، توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔