مالی میں مبینہ بغاوت کی سازش ناکام، درجنوں فوجی گرفتار

مالی میں مبینہ بغاوت کی سازش ناکام، درجنوں فوجی گرفتار
کیپشن: مالی میں مبینہ بغاوت کی سازش ناکام، درجنوں فوجی گرفتار

ویب ڈیسک: مغربی افریقی ملک مالی میں حکومتی ذرائع اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق درجنوں فوجی اہلکاروں کو مبینہ طور پر فوجی جنتا کے خلاف بغاوت کی سازش میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب ملک پہلے ہی سیاسی غیر یقینی اور سیکیورٹی بحران کا شکار ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج نے متعدد یونٹس سے تعلق رکھنے والے درجنوں فوجیوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ جنتا حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق سازش ابتدائی مرحلے میں ہی پکڑ لی گئی اور کسی بڑے تصادم یا جھڑپ کی نوبت نہیں آئی۔

مقامی اخبارات اور آن لائن پلیٹ فارمز نے رپورٹ کیا کہ حراست میں لیے گئے فوجیوں کو دارالحکومت باماکو میں سخت سیکیورٹی کے تحت ایک فوجی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔ حکومتی عہدیداران نے باضابطہ طور پر اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم غیر رسمی طور پر اعتراف کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات حساس نوعیت کی ہیں۔

یاد رہے کہ مالی میں اگست 2020 اور مئی 2021 میں دو فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں، جن کے نتیجے میں جنتا حکومت قائم ہوئی تھی۔ موجودہ فوجی قیادت، جس کی سربراہی کرنل اسیمی گویتا کر رہے ہیں، نے اقتدار سنبھالنے کے بعد انتخابات کا وعدہ کیا تھا، لیکن سیکیورٹی حالات اور اندرونی اختلافات کے باعث سیاسی عمل تاخیر کا شکار ہے۔

مالی کو طویل عرصے سے القاعدہ اور داعش سے منسلک عسکریت پسند گروپوں کی شورش کا سامنا ہے، جبکہ ملک کے شمال اور وسطی حصے میں تشدد اور مسلح کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئی مبینہ بغاوت کی کوشش نہ صرف جنتا حکومت کی ساکھ کو مزید متاثر کر سکتی ہے بلکہ پہلے سے موجود غیر یقینی صورتِ حال کو بھی گہرا کر دے گی۔

عوامی سطح پر بھی اس پیشرفت پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ حلقے اسے جمہوری عمل کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ فوج کے اندر بڑھتی بے چینی ملک کے سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

Watch Live Public News