پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدے کیلئے نئے صوبوں کا قیام مسترد کر دیا

پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدے کیلئے نئے صوبوں کا قیام مسترد کر دیا
کیپشن: پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدے کیلئے نئے صوبوں کا قیام مسترد کر دیا

ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے آئین کو بار بار نہیں بدلا جا سکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے نئے صوبوں کے حوالے سے پارٹی کا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں نئے صوبوں کی بات کر کے قومی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کو مسترد کرتے ہیں۔ سیاسی مفادات کے لیے آئین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

پی پی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی ہر آئینی معاملے میں اتحاد، استحکام اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کی علمبردار ہے۔ قومی فیصلے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر سیاست کرنے والے عام عوام کو گمراہ کرنا بند کریں۔ پی پی کا موقف ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے پر پارلیمنٹ کو موجودہ اتفاق رائے پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔

شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے واضح کر دیا ہے کہ تقسیم یا ٹکڑے ٹکڑے کر کے کوئی صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا اصولی موقف گورننس کو مضبوط کرنا ہے، لیکن وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنا نہیں۔ وہ انتظامی اصلاحات چاہتے ہیں جو وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کریں، اسے کمزور نہ کریں۔ صوبوں کے حقوق اور اختیارات کا تحفظ ہی مضبوط وفاق کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دے گی۔ تقسیم نہیں۔ پارٹی صوبائی خودمختاری کو اپنی جمہوری جدوجہد کی بنیاد سمجھتی ہے۔

Watch Live Public News