ویب ڈیسک: لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید، جن کا تعلق چکوال سے ہے، بلوچ رجمنٹ سے اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا اور انٹیلی جنس و انسدادِ جاسوسی کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس ڈی جی، جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل اور ٹین کور کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔
جون 2019 میں انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ان کے دور میں علاقائی سیکیورٹی امور نمایاں رہے جبکہ بعض مبصرین نے سیاسی معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات بھی عائد کیے۔ اکتوبر 2021 میں وہ کور کمانڈر پشاور اور بعد ازاں کور کمانڈر بہاولپور تعینات ہوئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہوئی اور 12 اگست 2024 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 15 ماہ جاری رہنے والے مقدمے میں فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے غلط استعمال اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے۔
عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انہیں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ملزم کو اپنی پسند کے وکلا کے ساتھ مکمل دفاع کا حق دیا گیا اور انہیں متعلقہ فورمز پر اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملکی عدم استحکام سے متعلق ان کی مبینہ سیاسی سرگرمیوں کے بعض پہلوؤں پر کارروائی الگ سے جاری ہے۔