اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے  سے منظور

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے  سے منظور

(ویب ڈیسک ) قومی اسمبلی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق  کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے بل  رومینہ خورشید عالم نے ایوان میں پیش کیا۔

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز ایکٹ ترمیمی بل 2025 ایوان منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ قومی اسمبلی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

اپوزیشن کے کسی رکن نے تنخواہ و الاؤنسز ترمیمی بل کی مخالفت نہیں کی۔

خیال رہے  کہ   وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہوگا۔

تنخواہوں میں اضافے کی منظوری کے بعد ایک رکن پارلیمنٹ کے اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 19 ہزار روپے منتقل کر دیے گئے۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی اجلاس  میں  پاکستان ماحولیاتی تحفظ ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا گیا۔ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ترمیمی بل 2025 قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں تھیلیسیمیا کی سکریننگ بل 2025 ایوان میں پیش پیش کیا گیا۔ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی شرمیلا ہشام فاروقی نے ایوان میں پیش کی۔وفاقی دارالحکومت میں تھیلیسیمیا کی سکریننگ بل 2025 متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

اس کے علاوہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی بل 2025 ایوان میں پیش کیا گیا جسے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی بل 2025 ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پیش کیا۔

آربٹ ادارہ برائے منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 مؤخر کردیا گیا۔  بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی درخواست پر مؤخر کیا گیا۔

آئین پاکستان کی شق 59 میں ترمیم کابل ایوان میں پیش کیا گیا۔ آئئنی ترمیمی بل 2025 نوید عامر جیوہ نے پیش کیا جسے  قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

بل کے تحت پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

پاکستان کے قوانین کی اشاعت ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔  بل شرمیلا فاروقی نے پیش کیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے بل کی مخالفت کر دی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس بل کی وجہ سے بہت مسائل پیدا ہوں گے۔جس کے بعد شرمیلا فاروقی کا بل ڈراپ کر دیا گیا۔

Watch Live Public News