بھارتی سابق اسپنر روی چندرن ایشون بھی عثمان طارق کے دفاع میں بول پڑے

بھارتی سابق اسپنر روی چندرن ایشون بھی عثمان طارق کے دفاع میں بول پڑے
کیپشن: بھارتی سابق اسپنر روی چندرن ایشون بھی عثمان طارق کے دفاع میں بول پڑے

ویب ڈیسک: بھارت کے سابق آف اسپنر روی چندرن ایشون نے پاکستان کے اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کا دفاع کرتے ہوئے اسے قانونی قرار دیا ہے۔روی چندرن ایشون کا یہ بیان پاک بھارت میچ کو لیکر بڑی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

عثمان طارق کا بولنگ ایکشن اُس وقت موضوعِ بحث بن گیا جب انہوں نے امریکا کے خلاف شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کو ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم ان کی کارکردگی کے بجائے جلد ہی توجہ ان کے بولنگ ایکشن میں گیند چھوڑنے سے پہلے نمایاں وقفے پر مرکوز ہو گئی، جس پر شائقین اور سابق کرکٹرز کے درمیان بحث چھڑ گئی۔

کئی سابق بھارتی کھلاڑیوں نے اس معاملے پر رائے دی، جن میں آکاش چوپڑا اور شری وتس گوسوامی شامل ہیں۔ گوسوامی نے سوال اٹھایا کہ کیا بولنگ رن اپ کے دوران وقفہ لینا بالکل جائز ہونا چاہیے؟ انہوں نے اس وقفے کا موازنہ فٹبال کے پنالٹی قوانین سے کیا، جہاں کھلاڑیوں کو رن اپ کے دوران رکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

تاہم ایشون نے عثمان طارق کے دفاع میں مضبوط مؤقف اپنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بولرز کو اکثر بیٹرز کے مقابلے میں زیادہ سخت جانچ کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بیٹرز بغیر امپائرز کو اطلاع دیے سوئچ ہٹ جیسے غیر روایتی شاٹس کھیل سکتے ہیں، جبکہ بولرز کو اپنا بولنگ بازو تبدیل کرنے کی صورت میں بھی حکام کو مطلع کرنا پڑتا ہے۔

سابق بھارتی اسپنر نے مزید وضاحت کی کہ کسی بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت کا تعین صرف آنکھوں سے دیکھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کا فیصلہ صرف آئی سی سی سے منظور شدہ بولنگ ایکشن ٹیسٹنگ سینٹر میں ہی ممکن ہے، جہاں بولرز کا جائزہ 15 ڈگری تک کہنی موڑنے کی مقررہ حد کے مطابق لیا جاتا ہے۔

عثمان طارق کو اس سے قبل پاکستان سپر لیگ کے دوران مشکوک ایکشن پر رپورٹ کیا گیا تھا، تاہم دونوں مواقع پر آئی سی سی نے انہیں کلیئر قرار دیا۔ ان کے بولنگ ایکشن پر ان کے ڈبل جوائنٹڈ کہنیوں کا اثر ہے، جس کے باعث وہ اپنے بازو مکمل طور پر سیدھے نہیں کر سکتے — یہ کیفیت سری لنکا کے لیجنڈ متھیا مرلی دھرن سے بھی منسوب کی جاتی ہے۔

ایشون نے عثمان طارق کے ایکشن میں موجود وقفے پر بھی بات کی اور کہا کہ چونکہ یہ ان کے ڈیلیوری اسٹرائیڈ کا مستقل اور فطری حصہ ہے، اس لیے اسے قانونی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ بیٹرز کو دھوکہ دینے کی کوشش۔

Watch Live Public News