ویب ڈیسک: بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات اور آئینی ترامیم سے متعلق قومی ریفرنڈم کل 12 فروری 2026 (جمعرات) کو منعقد ہوگا۔ شیخ حسینہ کے دور کے خاتمے کے بعد یہ انتخابات ملک کی سیاسی تاریخ میں اہم سنگِ میل قرار دیے جا رہے ہیں۔
ملک بھر میں 350 نشستوں کے لیے تقریباً 2000 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 1400 پہلی بار انتخاب لڑ رہے ہیں جبکہ 600 سے زائد امیدواروں کی عمر 44 سال یا اس سے کم ہے۔
سیاسی مقابلہ بنیادی طور پر بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 جماعتی اتحاد کے درمیان متوقع ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق بی این پی اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعتِ اسلامی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، یوں مقابلہ انتہائی سخت دکھائی دے رہا ہے۔
سروے کے مطابق جماعتِ اسلامی کا اتحاد 105 حلقوں میں واضح برتری حاصل کر سکتا ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر سبقت حاصل ہونے کی توقع ہے۔ 75 حلقوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کے باعث انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی، تاہم اندازوں کے مطابق اس کے ووٹرز کی بڑی تعداد بی این پی کی حمایت کر سکتی ہے۔
63 ہزار سے زائد ووٹرز پر مشتمل سروے میں 92 فیصد افراد نے ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا، جو متوقع طور پر بلند ٹرن آؤٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد روزگار اور معاشی مسائل کے تناظر میں انتخابی عمل میں سرگرم کردار ادا کر سکتی ہے۔