ویب ڈیسک: امریکا میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے معروف کارکن محمود خلیل نے جمعرات کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 20 ملین ڈالر (تقریباً 56 کروڑ روپے) ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔
خلیل کا مؤقف ہے کہ انہیں بلاجواز حراست میں لیا گیا، غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ انہیں اور ان کے خاندان کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ اپنی جدوجہد ترک کر دیں۔
یہ قانونی دعویٰ "سینٹر فار کونسٹی ٹیوشنل رائٹس" کی معاونت سے دائر کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خلیل کو نہ صرف ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کی ساکھ اور شہرت کو بھی شدید دھچکا لگا۔
محمود خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں 104 دن تک اپنی بیوی سے دور رہا، اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا لمحہ بھی نہ دیکھ سکا۔ اب وقت ہے کہ طاقت کے غلط استعمال پر جواب طلبی کی جائے۔"
انہوں نے انکشاف کیا کہ دورانِ حراست انہیں 70 سے زائد افراد کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رکھا گیا، جہاں نہ کوئی روشنی بند ہوتی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی پرائیویسی میسر تھی۔