وزراءاورپارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافہ،وزیرخزانہ کا بھرپور دفاع

 وزراءاورپارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافہ،وزیرخزانہ کا بھرپور دفاع
کیپشن: وزراءاورپارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافہ،وزیرخزانہ کا بھرپور دفاع

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزرا اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ نو سال بعد کی گئی ہے، اور اگر ہر سال معمولی اضافہ ہوتا تو معاملہ اس قدر نمایاں نہ ہوتا۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے وزرا، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے سے متعلق سوالات کیے گئے۔ وزیر خزانہ نے وضاحت دی کہ کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں آخری بار اضافہ 2016 میں کیا گیا تھا اور اس کے بعد کوئی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا، "اگر ہر سال تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا تو یہ اچانک اور بھاری اضافہ محسوس نہ ہوتا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بات کی جاتی ہے تو وزرا کی تنخواہیں بھی اسی اصول کے تحت بڑھنی چاہئیں۔"

وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فیصد ہے اور دنیا بھر میں پنشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ "ہماری ذمہ داری ہے کہ وفاقی اخراجات کو محدود رکھیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ منتخب نمائندے تنخواہوں میں جائز اضافے سے محروم رہیں،"۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب ان دونوں عہدیداروں کی ماہانہ تنخواہ 13 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل صرف 2 لاکھ 5 ہزار روپے تھی۔

وزیر خزانہ کے اس مؤقف کے بعد یہ معاملہ ایک نئی بحث کی صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک طرف عوامی نمائندوں کی تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ جوڑنے کی منطق پیش کی جا رہی ہے، وہیں عام سرکاری ملازمین کے لیے محدود اضافے پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Watch Live Public News