ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی بالآخر امریکی مداخلت کے بعد فوری جنگ بندی پر ختم ہو گئی ہے، جس سے خطہ ممکنہ تباہ کن جنگ سے محفوظ رہا۔ دونوں ممالک نے 10 مئی کو سیز فائر پر رضامندی ظاہر کی، جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کی۔
تنازع کا آغاز 22 اپریل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک حملے سے ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جس کے بعد دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔
23 اپریل کو بھارت نے پاکستان پر حملے کی پشت پناہی کا الزام دہراتے ہوئے سفارتی تعلقات محدود کر دیے، سرحد بند کر دی اور آبی معاہدہ معطل کر دیا۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
24 اپریل کو ویزوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش کا تبادلہ ہوا، جبکہ 25 اپریل کو لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
3 مئی کو پاکستان نے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس کے بعد بھارت نے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے لیے اپنی بندرگاہیں بند کر دیں۔
7 مئی کو بھارت نے پاکستانی سرزمین پر میزائل حملے کیے، جس پر پاکستان نے اسے "اعلانِ جنگ" قرار دیا اور شدید جوابی کارروائی کی۔ اگلے دو دنوں میں میزائل، ڈرون حملے اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے۔
9 مئی: بھارت نے اپنا سب سے بڑا کرکٹ ٹورنامنٹ ”آئی پی ایل“ ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا۔
10 مئی: پاکستان نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے اس کے ایئربیسز پر میزائل حملے کئے گئے جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت پر میزائل اور ڈرونز کی برسات کردی۔
10مئی کی صبح پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا اور بھارت کو تاریخی جواب دیتے ہوئے ان کی متعدد ایئرفیلڈز تباہ کردیں۔ اس کے علاوہ سائبر اٹیک سے بھارت کی درجنوں سرکاری ویب سائٹس ہیک کرلیں۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر 10 مئی کو امریکی صدر کی ثالثی پر دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر رضامند ہو گئے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔