نئے پوپ کا نام کے انتخاب میں AI سے مدد لینے کا انکشاف

نئے پوپ کا نام کے انتخاب میں AI سے مدد لینے کا انکشاف
کیپشن: نئے پوپ کا نام کے انتخاب میں AI سے مدد لینے کا انکشاف

ویب ڈیسک: نئے منتخب ہونے والے پوپ لیو 14 (Pope Leo XIV)، جن کا اصل نام رابرٹ فرانسس پرووسٹ ہے، نے اپنے پہلے رسمی خطاب میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنا پوپ نام مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے منتخب کیا۔ پوپ پرووسٹ کا تعلق امریکی شہر شکاگو سے ہے اور وہ حال ہی میں کیتھولک چرچ کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔

ویٹیکن سٹی میں کالج آف کارڈینلز سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو XIV نے کہا کہ ان کے منتخب کردہ نام کے پیچھے ایک گہرا فکری پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے پوپ لیو سیزدہم کے نام کو اپنانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ ایک ایسے وقت میں چرچ کی قیادت کر رہے تھے جب دنیا صنعتی انقلاب کے دور سے گزر رہی تھی، اور آج ہم ایک اور انقلاب، یعنی مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔‘‘

پوپ لیو سیزدہم (1878-1903) نے اپنی مشہور انسائیکلیکل Rerum Novarum میں صنعتی دور کے سماجی مسائل پر روشنی ڈالی تھی۔ پوپ لیو XIV کا کہنا تھا کہ ’’آج چرچ کو ایک نئی ذمہ داری کا سامنا ہے، جہاں AI کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان انسانی وقار، سماجی انصاف اور محنت کی عظمت کو اجاگر کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔‘‘

ان کا یہ بیان چرچ کی جدید سائنسی و سماجی رجحانات سے ہم آہنگی کی جانب ایک علامتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کیتھولک دنیا میں نئی بحثوں کا آغاز کر سکتا ہے۔

Watch Live Public News