لال قلعہ دھماکا، بھارتی حکومت کی فالس فلیگ مہم کا پردہ چاک، خط منظر عام پر آ گیا

لال قلعہ دھماکا، بھارتی حکومت کی فالس فلیگ مہم کا پردہ چاک، خط منظر عام پر آ گیا

ویب ڈیسک:بھارت سے بڑی خبر کا انکشاف، بھارت کے فالس فلیگ اسپیشلسٹ وزیر داخلہ امیت شاہ نئی دہلی دھماکے کی پولیس تفتیش پر برہم، نئی دہلی لال قلعہ کار سلنڈر بلاسٹ  مقامی پولیس اہلکاروں کے لیے وبال جان بن گیا۔

تھانہ کوتوالی دہلی کے ایس ایچ او نے را کے فالس فلیگ منصوبے پر عمل سے انکار کر دیا، ایس ایچ او کو دھماکے کی نوعیت تبدیل کرنے اور تفتیش میں بعض افرد کی گرفتاری ڈالنے کا کہا جا رہا تھا۔

لال قلعہ دھماکے کی ابتدائی پولیس رپورٹ میں سلنڈر دھماکہ کیوں لکھا، ایس ایچ او کو آئی جی سمیت اعلی افسران کی دھمکیاں دیں۔

تھانہ کوتوالی کے مطابق نئی دہلی کے ایس ایچ او نے اعلی افسران کے دباؤ پر ہتھیار ڈال دیئے،  فالس فلیگ کے مطابق کرائم سین بنانے کے لیے ایس یچ او کا لال قلعہ انتظامیہ کو لکھا خط منظر عام پر آ گیا۔

خط کے متن میں لکھا گیا کہ ’ لال قلعہ گیارہ سے تیرہ نومبر تین دن کے لیے سیاحوں کے لیے بند رکھا جائے، تین دنوں میں سلنڈر بلاسٹ کو دہشت گردی کا واقعہ ثابت کرنے کے جعلی شواہد پولیس تفتیش میں شامل کئے جائیں گے۔

نئی دہلی پولیس ذرائع کے مطابق لال قلعہ انتظامیہ کو لکھے خط میں پولیس نے تفتیش مکمل نہ ہونے کا بھی لکھا ہے۔

جب تفتیش ہی مکمل نہیں ہوئی تو بھارتی حکام اور میڈیا نے سرحد پار دہشت گردی کا دعوی کیسے کر دیا؟ اہم سوال بھی پیدا ہو گیا،پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھی بھارت نے ایسی ہی بچگانہ غلطیاں کی تھیں۔

Watch Live Public News