نویں کا سلیبس 160 صفحات تک محدود،اے آئی، ڈیٹا سائنسز شامل، وزیر تعلیم پنجاب

نویں کا سلیبس 160 صفحات تک محدود،اے آئی، ڈیٹا سائنسز شامل، وزیر تعلیم پنجاب

(ویب ڈیسک )صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے تعلیمی اصلاحات، امتحانات کے نتائج، اسکول آؤٹ سورسنگ اور نقل کے خلاف اقدامات پر تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نویں جماعت کی کتابوں کا مواد 200 سے کم کر کے 160 صفحات تک کر دیا گیا ہے جبکہ نئے سلیبس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سائنسز کو شامل کیا گیا ہے۔ نویں جماعت کا نیا سلیبس عالمی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اسے پہلی بار کانسیپٹ بیسڈ اور ایکٹیویٹی بیسڈ بنایا گیا ہے۔ پنجاب میں پہلی سے پانچویں جماعت کا نیا نصاب رواں سال نافذ کیا جائے گا جس میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید تعلیم پر توجہ دی گئی ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب کے دسویں جماعت کے نتائج میں 73.1 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے اور سرکاری اسکولوں کے بچوں کے لرننگ آؤٹ کمز بہتر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال نویں جماعت میں 43 سے 44 فیصد نمبر لینے والے بچوں کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ پنجاب میں نویں جماعت کا رزلٹ گزشتہ سال 44 فیصد سے کم ہو کر 43 فیصد ہوا جس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی بار اقلیتی طالب علم نے بورڈ میں پوزیشن حاصل کی ہے اور بڑے اداروں کی پوزیشنز کا رجحان تبدیل ہوا ہے۔ اگلے سال نویں جماعت کے نتائج میں 6 سے 8 فیصد اور نمایاں بہتری متوقع اور نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ  آٹھویں جماعت کا رزلٹ 87 فیصد آیا ہے، جس کے 48 لاکھ بچوں کی آن اسکرین مارکنگ پہلی بار اے آئی کے ذریعے کی گئی، جبکہ اس کے پرچے چیکرز، سپر چیکر اور اے آئی چیکر نے چیک کیے۔ پانچویں جماعت کا امتحان دوبارہ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا مقصد بچوں کو فیل کرنا نہیں بلکہ تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ نویں جماعت میں بھی کمزور بچوں کی نشاندہی کر کے ان پر خصوصی محنت کی جائے گی۔

وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ تعلیمی نظام میں امتحانات کی شفافیت ہماری ترجیح ہے اور پنجاب میں 95 فیصد امتحانات شفاف طریقے سے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 15 بورڈز میں اقدامات کیے گئے اور پیپر سیٹنگ، چیکنگ اور عملی امتحانات کا نظام مزید شفاف بنایا گیا۔ 2019 سے 2023 تک امتحانات میں نقل اور جعل سازی کے 1500 کیسز رپورٹ اور سامنے آئے تھے، جبکہ گزشتہ دو سال میں نقل اور جعل سازی کے 3600 سے زائد کیسز پکڑے گئے ہیں جو کہ کیسز میں 300 فیصد اضافہ ہے۔ نقل مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی اور نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ 

رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ نقل کے ذریعے پاس ہونے والے طلبہ آگے چل کر کم معیار کے گریجویٹس پیدا کریں گے، پاکستان میں جامعات سے 21 لاکھ گریجویٹس پیدا ہو چکے ہیں، نقل کے ذریعے آگے آنے والا بچہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اس لیے سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کم تر سمجھنے کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ   2200 ایسے سرکاری اسکولز کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا رزلٹ 20 فیصد یا اس سے کم ہے، اور ان 2200 اسکولز کی خراب کارکردگی پورے پنجاب کے تعلیمی نتائج کو متاثر کر رہی ہے۔ مسلسل خراب رزلٹ دینے والے اسکولز میں اساتذہ کا احتساب کیا جائے گا اور 20 فیصد سے کم رزلٹ دینے والے اساتذہ کو ملازمت سے ہٹایا جائے گا۔ اساتذہ کے خلاف طویل انکوائریز نہیں ہوں گی، کم رزلٹ پر براہِ راست کارروائی ہوگی۔ تین سے پانچ سال مسلسل خراب رزلٹ دینے والے استاد کو عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ خراب نتائج دینے والے اسکولز کے عملے کو متعدد نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور مسلسل خراب کارکردگی پر اسکول اسٹاف کے خلاف کارروائی ہوگی۔

 انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک استاد ایک سال تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہ کر نظام چلا سکتا ہے؟ اب ہر اسکول، تحصیل اور ضلع کی سطح پر نتائج کا ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ اور احتساب کا جوابدہ نظام بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اچھے اساتذہ بھی موجود ہیں، اچھے نتائج اور اعلیٰ کارکردگی والے اساتذہ کو انعام دیا جائے گا۔ اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 25 ہزار اسکول ٹیچنگ انٹرنز تعینات کیے گئے ہیں اور کمزور اسکولز میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ اسکول ٹیچنگ انٹرنز لگائے جائیں گے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب میں 13 ہزار اسکولز آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں جہاں تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ آؤٹ سورس اسکولز میں طلبہ کی تعداد ایک سال میں 5 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 16 ہزار ہو گئی اور داخلوں میں 121 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اساتذہ کی تعداد 16 ہزار 406 سے بڑھ کر 83 ہزار ہو گئی۔ آؤٹ سورس اسکولز کا مجموعی رزلٹ 81 فیصد رہا اور 42 فیصد طلبہ نے اے اور اے پلس گریڈ حاصل کیے۔ سرکاری اسکولز کا دسویں جماعت کا رزلٹ 73 فیصد جبکہ آؤٹ سورس اسکولز کا 81 فیصد رہا، یوں آؤٹ سورس اسکولز نے دسویں میں 8 فیصد اور نویں جماعت میں سرکاری اسکولز سے 11 فیصد بہتر کارکردگی دکھائی۔ بہتر نتائج دینے والے پی ای ایف (PEF) پارٹنرز کو فی طالب علم سبسڈی میں اضافہ دیں گے۔ جماعت اسلامی نے نویں جماعت کے امتحانی نتائج، ہمارے نواز شریف اسکولز اور اسکول آؤٹ سورسنگ پر تنقید کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی فاؤنڈیشن خود آؤٹ سورس اسکولز وصول کر رہی ہے۔ پنجاب کے ماڈل کو دیکھتے ہوئے خیبر پختونخوا بھی تقریباً 700 اسکولز آؤٹ سورس کر رہا ہے۔ اسکولز آف ایمننس میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس لیبز قائم کی جا رہی ہیں اور ان میں 30 فیصد اخراجات کی بچت کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب میں شرح خواندگی 67 سے بڑھ کر 69 فیصد ہو گئی ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے۔ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں 12 لاکھ بچوں کو روزانہ غذائیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ساڑھے آٹھ سو میں سے ساڑھے پانچ سو سرکاری کالجز میں مستقل پرنسپلز تعینات کیے گئے جس کی بدولت سرکاری کالجز میں طلبہ کا داخلہ 2 لاکھ 7 ہزار سے بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گیا ہے۔ 200 سرکاری کالجز میں 30 سے 50 کمپیوٹرز پر مشتمل جدید لیبز قائم کی گئی ہیں اور کالجز میں ہر ماہ امتحانات کا نظام شروع کیا گیا ہے۔

 جامعات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلے 12 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار، یو ایم ٹی میں 12 ہزار سے بڑھ کر 19 ہزار، کمالیہ یونیورسٹی میں 400 سے بڑھ کر 2600، ویٹرنری یونیورسٹی لاہور میں 550 سے بڑھ کر 3200 اور غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں داخلے 4200 سے بڑھ کر 9 ہزار کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ ٹائمز رینکنگ میں بھی پنجاب کی جامعات نے نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

رانا سکندر حیات نے اعلان کیا کہ وہ پیر سے کسی گاؤں کے سرکاری اسکول میں خود کلاس لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے متعلقہ سرکاری اسکول کا ٹیسٹ ہوگا اور بعد میں وہ اپنی کلاس کے نتائج خود سب کے سامنے رکھیں گے۔

Watch Live Public News