امریکا گرفتار فلسطینی طالبعلم محمود خلیل کو ملک بدر کرسکتا ہے،امیگریشن جج

امریکا گرفتار فلسطینی طالبعلم محمود خلیل کو ملک بدر کرسکتا ہے،امیگریشن جج
کیپشن: امریکا گرفتار فلسطینی طالبعلم محمود خلیل کو ملک بدر کرسکتا ہے،امیگریشن جج

ویب ڈیسک: امریکا میں امیگریشن جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم اور فلسطینی کارکن محمود خلیل کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فاکس نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسسٹنٹ چیف امیگریشن جج جیمی کومنز نے گزشتہ روز سماعت کے فوراً بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اُن تقاضوں کو پورا کر لیا ہے۔جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پاس محمود خلیل کو ملک بدر کرنے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔

عدالت کو لکھے گئے خط میں  امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اصرار کیا تھا کہ محمود خلیل کے ایکٹیو ازم سے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔خط میں مبینہ طور پر ’یہود مخالف مظاہروں اور خلل ڈالنے والی سرگرمیوں میں محمود خلیل کی شرکت اور کردار کا حوالہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے 1952 کے ایک قانون کے تحت محمود خلیل کی ملک بدری کا حکم دیا ہے۔ یہ قانون وزیر خارجہ کو کسی بھی ایسے شخص کی مستقل رہائش منسوخ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کے بارے میں وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

یاد رہے کہ فلسطینی نژاد امریکی طالبِ علم کو 8 مارچ کو کولمبیا یونیورسٹی میں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ محمود خلیل شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور الجزائر کی شہریت رکھتے ہیں ۔ جبکہ انکی اہلیہ  کا تعلق امریکا سے ہے اور وہ گزشتہ سال ہی امریکا کے قانونی رہائشی بنے تھے۔   محمود خلیل فلسطین کے حامی طلبہ کی احتجاجی تحریک میں ایک اہم شخصیت ہیں۔

فی الحال محمود  خلیل کو  لوزیانا جیل میں رکھا گیا ہےاور  جج جیمی  کومنز نے   محمود خلیل کے وکلاء کو 23 اپریل تک اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا وقت دیا ہے، جس کے بعد ملک بدری کا حکم صادر کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، نیو جرسی میں ایک الگ مقدمے میں امریکی ڈسٹرکٹ جج مائیکل فاربیارز نے خلیل کی گرفتاری کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے ملک بدری کو روک دیا ہے۔

Watch Live Public News