ویب ڈیسک: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ سنجیدہ اور مثبت ارادوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم دو سابقہ جنگوں کے تجربات کی وجہ سے مکمل اعتماد قائم نہیں ہو سکا۔
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات میں تعمیری اور مستقبل پر مبنی تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو قومی طاقت کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے اور اپنے دفاعی و قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایرانی قوم نے سپریم لیڈر کی قیادت میں بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کیا، اور طویل مذاکرات کے دوران وفد کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔