بہار الیکشن سے قبل ووٹر لسٹ پر تنازع، مسلم ووٹروں کے اخراج کا الزام

بہار الیکشن سے قبل ووٹر لسٹ پر تنازع، مسلم ووٹروں کے اخراج کا الزام
کیپشن: بہار الیکشن سے قبل ووٹر لسٹ پر تنازع، مسلم ووٹروں کے اخراج کا الزام

ویب ڈیسک: بھارتی ریاست بہار میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جاری کردہ نئی ووٹر لسٹ شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور انتخابی شفافیت کے حامی اداروں نے الزام لگایا ہے کہ فہرست میں بڑے پیمانے پر نقائص موجود ہیں، جن کے باعث لاکھوں اہل ووٹرز، خاص طور پر مسلم اکثریتی اضلاع کے رہائشی، ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔

الزامات کے مطابق ووٹر لسٹ میں جعلی اندراجات، دوہری رجسٹریشن، غلط معلومات، اور فوت شدہ افراد کے نام شامل ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے جان بوجھ کر مسلمان ووٹروں کے نام خارج کیے، خاص طور پر بہار کی چار سرحدی اضلاع میں، تاکہ بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا سکے۔

کئی کیسز میں ایک ہی شخص کا نام مختلف حلقوں یا ریاستوں میں مختلف شناختی کارڈ نمبروں کے ساتھ موجود پایا گیا، جو قانونی طور پر ممنوع ہے اور انتخابی دھاندلی کے امکانات بڑھاتا ہے۔ بعض فہرستوں میں ایک ہی پتے پر ہزاروں ووٹر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ متعدد ووٹرز کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔

نئی عبوری فہرست میں 7 کروڑ 24 لاکھ نام درج ہیں، جو پچھلی فہرست سے 65 لاکھ کم ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس کمی میں 22 لاکھ فوت شدہ افراد، 7 لاکھ دوہری رجسٹریشن والے ووٹر، اور 36 لاکھ ایسے ووٹر شامل ہیں جو بہار سے دوسری ریاستوں میں منتقل ہو گئے۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر اہل ووٹر کو فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ حذف شدہ ناموں یا مذہبی تفصیلات کی کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیمانے پر ووٹر فہرست کی جانچ چند ہفتوں میں ممکن نہیں، اور ایسی بے ضابطگیاں بھارت کے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔

Watch Live Public News