نیتن یاہوکی جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی،اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

نیتن یاہوکی جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی،اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب
کیپشن: نیتن یاہوکی جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی،اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

ویب ڈیسک: حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کے بیان کے بعد اب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دھمکی کی ہے کہ اگر یرغمالیوں کی رہائی نہ ہوئی تو جنگ بندی معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔ جس کے بعد عرب ممالک نے اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر حماس نے اگلے ہفتے کی دوپہر تک پٹی میں قید اسرائیلیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ "فوج اس وقت تک شدید لڑائی کے لیے واپس آئے گی جب تک کہ حماس کو مکمل شکست نہیں دی جاتی"۔ نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کے الفاظ میں غزہ میں قید تمام اسرائیلی شامل ہیں یا جنگ بندی کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر اسرائیل کے زیر حراست فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے ہفتے کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کا ایک گروپ شامل ہے۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی سمت یعنی غزہ کے آس پاس جنگی تیاریوں کی سطح میں اضافے اور "مختلف منظرناموں" کی صورت میں وہاں کمک کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہفتے کے روز تک دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل کریں گے۔ انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ڈیڈ لائن اب بھی موجود ہے۔

حماس نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پرقائم رہنے کا عزم کرتے ہوئے اسرائیل پر اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "حماس جنگ بندی کے معاہدے کے لیے پرعزم ہے ، جس کی سرپرستی اور ضمانت ثالثوں مصر، قطر اور امریکا نے دی ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے دیکھا ہے کہ ہم معاہدے پر کار بند ہیں۔قابض اسرائیل جنگ بندی کے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کررہا، اور وہ کسی بھی پیچیدگی یا تاخیر کی ذمہ دار ہے"۔

اس سے قبل حماس نے ٹرمپ کے ہفتے کی دوپہر تک تمام قیدیوں کو رہا کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز زبان معاملات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب

دوسری جانب مصری وزارت خارجہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بشمول سعودی عرب، پاکستان، ایران اور اردن کے متعدد وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے ہوئے ہیں جن میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رابطوں میں 27 فروری کو قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی وزارتی اجلاس منعقد کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ فلسطین کے مسئلے پر فلسطینی، عرب اور مسلمان ممالک کے مؤقف کا اظہارکیا جا سکے اور فلسطینیوں کے ان کے حق خود ارادیت اور ان کی سرزمین میں رہنے کے ناقابل تنسیخ حقوق کی پاسداری کی جائے۔

چند روز قبل مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ 27 فروری کو مسئلہ فلسطین کی پیش رفت پر ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی تازہ ترین اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

Watch Live Public News