ویب ڈیسک :ایک برطانوی عدالت نے غزہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کو برطانیہ میں پناہ دینے کا فیصلہ دے کر مزید لاکھوں فلسطینیوں کو برطانیہ میں آباد کرنے کا راہ کھول دی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی عدالت نے فلسطینی پناہ گزینوں کے چھ افراد پر مشتمل خاندان کو برطانیہ میں رہائش کا حق دینے کا حکم دیا جس نے جنگ سے فرار ہوکر جان بچانے والے یوکرینی شہریوں کے لئے متعارف کردہ سکیم کے تحت درخواست دی تھی۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے چھ افراد پر مشتمل فلسطینی خاندان جس میں والدین سمیت سات سے 18 سال عمر کے چار بچے شامل ہیں نے یوکرین فیملی اسکیم کے تحت درخواست دی تھی لیکن ہوم آفس نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔
ان کی اپیل پر ایک امیگریشن جج نے اب فیصلہ دیا ہے کہ اس درخواست کے مسترد کرنے فلسطینی خاندان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
اخبار ٹیلی گراف کے مطابق اپیل میں برطانوی ہوم آفس کی جانب سے یہ موقف اختیار کرنے کے باوجود کہ اس فیصلے سے تارکین وطن کا سیلاب آسکتا ہے عدالت نے فلسطینی شہریوں کے حق میں فیصلہ دیا۔
ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےشیڈو ہوم سکریٹری کرس فلپ نے کہا کہ اس کیس نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کے قوانین میں تبدیلیاں ضروری ہیں تاکہ برطانیہ میں کون رہ سکتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ جج نہیں بلکہ پارلیمنٹ کرے ۔
اسکیم کے تحت یوکرینی باشندوں اور ان کے خاندان کے افراد کو اس شرط پر برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی اگر ان کا کوئی رشتہ دار ہے جو یا تو یو کے کا شہری ہے یا برطانیہ میں آباد ہے۔ مذکورہ فلسطینی خاندان کا بھائی بھی برطانوی شہری ہے۔
جج ہیوگو نورٹن ٹیلر نے فلسطینیوں کو یورپی کنونشن آن ہیومن رائٹس (ای سی ایچ آر) کے آرٹیکل 8 کے تحت اپنے بھائی کے ساتھ برطانیہ میں رہنے کا حق دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاندان کے لئے جان لیوا صورتحال برطانیہ میں داخلے کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین کے 'عوامی مفاد' سے کہیں زیادہ ہے۔