ویب ڈیسک: بنگلہ دیش میں آج قومی اسمبلی کے انتخابات کے ساتھ ایک اہم قومی ریفرنڈم بھی منعقد کیا جا رہا ہے جس پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا۔
یہ انتخابات سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی 16 سالہ حکمرانی کے خاتمے کے تقریباً 19 ماہ بعد ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جولائی 2024 میں طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر بھارت منتقل ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری نگران حکومت قائم کی گئی تھی۔
آج ووٹرز دو علیحدہ ووٹ ڈالیں گے۔ ایک ووٹ نئی حکومت کے انتخاب کے لیے جبکہ دوسرا ’ جولائی نیشنل چارٹر‘ کی منظوری یا مخالفت کے لیے ہوگا، جو ایک قومی میثاق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
انتخابات سے قبل اپنے پیغام میں ڈاکٹر محمد یونس نے اس دن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئی منتخب حکومت جلد ذمہ داریاں سنبھال لے گی، تاہم ملک کو مستقبل میں آمریت اور بدانتظامی سے محفوظ رکھنے کے لیے چارٹر کی منظوری ناگزیر ہے۔ عبوری حکومت نے اس اصلاحاتی پیکج کے حق میں بھرپور مہم بھی چلائی ہے۔
’ جولائی نیشنل چارٹر‘ دراصل جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانا اور اقتدار کو کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود ہونے سے روکنا ہے۔ یہ مسودہ ڈاکٹر یونس کے قائم کردہ ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا، تاہم عوامی لیگ اس عمل میں شامل نہیں تھی۔
ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر عوام سے ایک سوال پوچھا جائے گا جس کے جواب میں ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے لی جا رہی ہے۔
مجوزہ تبدیلیوں میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔ مزید برآں وزیراعظم کی مدت کے تعین اور صدر کے اختیارات میں اضافے کی تجاویز بھی چارٹر کا حصہ ہیں تاکہ طاقت کا ارتکاز روکا جا سکے۔
آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ بنگلہ دیش کا سیاسی اور آئینی مستقبل کس سمت اختیار کرتا ہے۔