190 ملین پاؤنڈزکیس کا کوئی بینیفشری نہیں ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

190 ملین پاؤنڈزکیس کا کوئی بینیفشری نہیں ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

ویب ڈیسک: حکومت کے ساتھ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے ممبرومجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کو کامیاب بنانا ہے تو ہماری بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایک نہیں کئی ملاقاتیں کروائی جانی چاہییں، 190 ملین پاؤنڈزکیس میں عمران خان یا ان کے خاندان کا کوئی شخص بینیفشری نہیں ہے۔

اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اتوار کو ملاقات کو دوران بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کو مطالبات کا ڈرافٹ دے دیں، 190 ملین پاؤنڈ میں پراسیکیوشن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس میں کوئی بندہ بینیفشری نہیں ہے۔

بانی نے ملاقات کے دوران کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر آزاد اورغیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، اگرمقررہ ڈیڈ لائن تک جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو ساری چیزیں واضح ہو جائیں گی۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے تو اچھا ماحول فراہم کرنا ہوگا، عمران خان تک بعض چیزیں درست منتقل نہیں ہوتیں، حکومت کو ہم پراعتماد کرنا چاہیے ہم وہ لوگ ہیں جن پرپاکستان کے عوام کا اعتماد ہے۔

علامہ ناصرعباس نے کہا کہ حکومت کا مطالبہ تھا کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات پیش کرے، عمران خان سے ملاقات کا بہت کم وقت دیا گیا، مذاکرات کے بعد جو مطالبات سامنے آئے ہیں وہ پورے نہ ہوئے تو ملک میں ریفارمزلانے کا یہ آخری موقع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قلم کاغذ نہیں تھا انسان بہت کچھ بھول جاتا ہے، عمران خان نے کہا کہ ان کو تحریری چیزیں لکھ کر دے دیں ۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے مل بیٹھنا چاہیے، آج کل پی ٹی آئی کا تحریری ڈرافٹ حکومت کے پاس پہنچ جائے گا، اگر مذاکرات کے راستے بند ہو گئے تو پھر دوسرا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو پاکستانی عوام کو پتا چل جائے گا کہ حکومت نے آگے بڑھنے کے تمام راستے بند کر دیے ہیں، پھر یہ نہ کہنا کہ سول نافرمانی ہو گئی ہے، لوگ ایسے نظام کو نہیں چلنے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے خیر اسگالی کا پیغام نہیں آئے گا، سی بی ایمز نہیں ہوں گے تو اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی، اس کے لیے حکومت یاسمین راشد و دیگر سیاسی اسیران کی ضمانتیں ہونے دے، انہیں رہا کرے۔

190 ملین پاؤنڈز سے متعلق سوال کے جواب میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اس کیس میں عمران خان یا ان کے خاندان کا کوئی شخص بینیفشری نہیں ہے، وہ جیل میں بھی ایک آزاد شخص ہے، عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہوں اور یہ ایک اور حماقت کرنے جا رہے ہیں۔

Watch Live Public News