سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی، علاقائی امن کیلئےشدید خطرہ

سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی، علاقائی امن کیلئےشدید خطرہ
کیپشن: سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی، علاقائی امن کیلئےشدید خطرہ

ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کا اقدام علاقائی امن اور پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے دریاؤں کے پانی کی بندش کی کوشش کی، جسے پاکستان نے جنگی اقدام سے تعبیر کیا ہے۔

تفصیلات  کے مطابق ورلڈ بینک اور عالمی ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے دونوں فریقین کی باہمی منظوری ضروری ہے۔ بھارت کی اس جارحیت سے نہ صرف پاکستان کی زراعت اور خوراک کے شعبے کو مہلک نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ خطے میں شدید بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے ممکنہ طور پر "فالس فلیگ" کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا منصوبہ بنایا، تاہم ماہرین کے مطابق جغرافیائی اور تکنیکی طور پر بھارت کے لیے دریاؤں کا مکمل پانی روکنا نہایت مشکل اور مہنگا ثابت ہو گا۔

پاکستان نے بھارت کے اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے بروقت اور فیصلہ کن اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد کسی نئے معاہدے کی راہ ہموار کرنا نہایت پیچیدہ اور غیر یقینی ہو گا۔

عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرے اور جنوبی ایشیا کو آبی جنگ کی طرف دھکیلنے سے روکے۔

Watch Live Public News